سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 194
سبیل الرشاد جلد چہارم 194 ذیلی تنظیموں کے قیام کا مقصد جماعت کے ہر طبقے کو جماعتی کاموں میں مصروف کرنا ہے کسی وقت بھی اگر کوئی عہد یدار رہا ہو اُسے اپنا عملی نمونہ عہد یدار نہ ہوتے ہوئے بھی برقرار رکھنا چاہئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 7 ستمبر 2007ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔جلسے کے دنوں میں میں نے مقامی جرمن لوگوں سے ایک میٹنگ کی ، جو نو مبائع تھے اور چند مہینے پہلے احمدی ہوئے ، کچھ چند سال پرانے بھی تھے۔وہاں ایک نو مسلم جرمن نے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی عہد یداررہ چکا ہو اور اب عہد یدار نہ ہونے کی وجہ سے نئے عہدیداروں سے مکمل طور پر تعاون نہ کر رہا ہو، اس کی اطاعت نہ کر رہا ہو تو اس کا کیا علاج ہے؟ کس طرح اصلاح کی جائے؟ یہاں اصلاح کا سوال تو بعد میں آتا ہے اس سوال نے تو مجھے ویسے ہی ہلا دیا ہے کہ پاکستان سے آئے ہوئے احمدیوں نے اپنے یہ نمونے قائم کئے ہیں کہ جب تک عہد یدارر ہے نظام کی اطاعت پر تقریر بھی کرتے رہے اور اطاعت کی توقع بھی کرتے رہے۔جب عہدہ ختم ہوا تو بالکل ہی گھٹیا ہو گئے۔پاکستانیوں کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ آپ سے اعلی نمونے کی توقع کی جاتی ہے۔اگر یہی مثالیں قائم کرنی ہیں تو آپ نے تو اپنی پرانی تربیت بھی ضائع کر دی اور جلسوں کے مقاصد کو بھی ضائع کر دیا۔دوسرے یہ یاد رکھیں کہ تمام قوموں نے انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت اور حقیقی اسلام میں شامل ہونا ہے اور ہر قوم نے نظام جماعت میں شامل ہو کر اپنے ملکوں کا نظام بھی خود چلانا ہے۔اس لئے اس خیال سے اپنے ذہنوں کو پاک کریں کہ ایک نیا آیا ہوا جرمن ہم پر کس طرح مسلط کیا جاسکتا ہے یا وہ ہمارا عہد یدار کس طرح بن سکتا ہے؟ اس بات سے کہ آپ عہدیدار نہیں بنے اور نیا آیا ہوا عہدیدار بن گیا، آپ کو استغفار کا زیادہ خیال آنا چاہئے ، استغفار میں زیادہ بڑھنا چاہئے کہ ہماری کمزوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا موقع ہم سے لے کر ان نئے شامل ہونے والوں کو دے دیا جو اخلاص و وفا اور اطاعت نظام اور اطاعت خلافت میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔پس ایسے بد خیالات رکھنے والے اپنی اصلاح کریں۔اُس جرمن کو تو میں نے یہی کہا تھا کہ ان لوگوں کو پیار سے سمجھائیں، ان کے لئے دعا کریں۔اگر پھر بھی باز نہیں آتے تو امیر صاحب کو لکھیں۔اگر امیر صاحب کے کہنے پر بھی اصلاح نہیں کرتے تو مجھے لکھیں تا کہ ایسے لوگوں کے خلاف پھر تعزیری کارروائی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو نیک اور ا خلاص میں بڑھے ہوئے لوگ چاہئیں نہ کہ خو دسر