سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 192
192 سبیل الرشاد جلد چہارم اس جلسے کا مقصد کیا ہے تو ہر ایک احمدی اپنے پرانے جھگڑے بھی ختم کرنے کی کوشش کرے گا اور اگر یہاں کوئی تلخی کی صورت پیدا ہوئی ہے تو اسے بھی دور کرنے کی کوشش کرے گا۔عہد یداران اور جلسے کے دنوں میں ڈیوٹی دینے والے بھی اس بات کا خیال رکھیں۔کل بھی میں نے یہی کہا تھا کہ اخلاق کے اعلیٰ معیار سب سے زیادہ ڈیوٹی دینے والوں سے ظاہر ہونے چاہئیں کہ بحیثیت کارکن اور عہدیداران کی زیادہ ذمہ داری ہے۔اس لئے ان میں برداشت کا پہلو بھی زیادہ ہونا چاہئے یا برداشت پیدا کرنے کی ان کو زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔ان میں عفو اور درگزر کا پہلو بھی زیادہ ہونا چاہیئے اور انہیں دوسروں کے لئے نمونہ بننے کے لئے اپنی عبادتوں اور دوسرے اخلاق کے معیار اونچا کرنے کی بھی دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔پس اگر عہد یدار اپنے آپ کو عہدیدار کی بجائے خادم سمجھیں اور افراد جماعت اپنے عہدیداران کو نظام جماعت چلانے کے لئے خلیفہ وقت کے مقرر کردہ کا رکن سمجھیں تو یہ تعلقات ہمیشہ محبت اور پیار کے تعلق کی صورت میں رہیں گے جو پھر خلیفہ وقت کے تابع ہو کر دنیا کو امن اور سلامتی کا حقیقی پیغام دینے والے ہوں گے، دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کو پورا کرنے والے ہوں گے۔ان راہوں پر چلنے والے ہوں گے جن راہوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں چلانا چاہتے ہیں۔ان معیاروں کو حاصل کرنے والے ہوں گے جن معیاروں کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں :" اے سعادت مند لوگو ! آپ میں سعادت تھی تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ، زمانے کے امام کو قبول کیا۔اب سعادت کا پہلا قدم تو تم نے اٹھا لیا، آگے آپ فرماتے ہیں "اے سعادت مند لو گو ! تم زور کے ساتھ اس تعلیم میں داخل ہو جو تمہاری نجات کے لئے مجھے دی گئی ہے" ایک قدم سعادت کا تو تم نے اٹھا لیا، نیک فطرت تھی قبول کر لیا، اب اپنے آپ پر اس تعلیم کو بھی لاگو کر وجو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئی ہے۔فرماتے ہیں " تم خدا کو واحد لاشریک سمجھو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو نه آسمان میں سے، نہ زمین میں سے۔خدا اسباب کے استعمال سے تمہیں منع نہیں کرتا۔دنیاوی کام ہیں ان سے تمہیں منع نہیں کرتا۔ذریعے ہیں ان سے تمہیں منع نہیں کرتا ، تو کل اگر اللہ تعالیٰ پر کرنا ہے تو اس کے لئے حکم ہے کہ اونٹ کا گھٹنا باندھو۔" لیکن جو شخص خدا کو چھوڑ کر اسباب پر ہی بھروسہ کرتا ہے وہ مشرک ہے۔قدیم سے خدا کہتا چلا آیا ہے کہ پاک دل بننے کے سوانجات نہیں ،سو تم پاک دل بن جاؤ اور نفسانی کینوں اور غصوں سے الگ ہو جاؤ۔انسان کے نفس امارہ میں کئی قسم کی پلیدیاں ہوتی ہیں مگر سب سے زیادہ تکبر کی پلیدی ہے۔اگر تکبر نہ ہوتا تو کوئی شخص کا فرنہ رہتا۔سوتم دل کے مسکین بن جاؤ۔عام طور پر بھی بنی نوع کی ہمدردی کر وجبکہ تم انہیں بہشت دلانے کے لئے وعظ کرتے ہو سو یہ وعظ تمہارا کب بیج ہو سکتا ہے اگر