سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 166

166 سبیل الرشاد جلد چہارم کے مددگار بن جاؤ۔حضور نے فرمایا کہ یہ کام آپ اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک ایمان مضبوط نہ ہو۔حضور انور نے فرمایا کہ قرآن کریم نے مثال دے کر بتایا ہے کہ اعراب یعنی دیہاتوں کے رہنے والے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ! تو ان کو بتا دے کہ ابھی یہ تمہارا دعویٰ ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ ہم نے فرمانبرداری قبول کر لی ہے۔یہ اسلمْنَا کی حالت امنا میں تب داخل ہوگی جب تمہارا اپنا کچھ نہیں ہوگا۔حضور انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے حوالے سے بتایا کہ مومن وہ ہے جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں اور وہ تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے قبول کرتے اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں۔40 سال سے زائد ہر ناصر کے دل میں اللہ کا خوف پہلے سے زیادہ ہو حضور انور نے فرمایا کہ ایک ناصر جو 40 سال سے اوپر ہو چکا ہے اس کی سوچ میں گہرائی آجانی چاہئے۔اسے اپنی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے کم ہونے کا احساس ہونا چاہئے۔اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پہلے سے زیادہ ہونا چاہئے۔اس کے اللہ پر ایمان کے معیار بہت اعلیٰ ہونے چاہئیں اور یہ ایمان کا اعلیٰ معیار اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اللہ کی محبت سب محبتوں پر حاوی ہو جائے۔حضور انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد مبارک کے حوالہ سے بتایا کہ خدا نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اپنی جماعت کو اطلاع دے دیں کہ جو لوگ ایسا ایمان لائے جس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور نفاق اور بزدلی سے آلودہ نہیں اور طاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔صحابہ رسول “ کا اسوہ اپنانے کی تلقین حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کریم میں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ذکر ہے یہ دو طرح کے لوگ تھے۔ایک گروہ مہاجر کہلایا اور ایک انصار۔جہاں تک حضرت عیسی کے حواریوں کی طرح انصار کہلانے کا تعلق ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو جب حکم ہوا کہ كُونُوا أَنْصَارَ الله تو کیا مہاجرین اور کیا انصار سب ہی اس میں شامل ہو گئے۔ان کی عبادتوں کے معیار بھی ایسے تھے کہ جن کا کوئی مقابلہ نہیں۔حضور نے انصار مدینہ کے ساتھ مہاجرین کی مؤاخات کے حوالہ سے انصار کی غیر معمولی قربانیوں کا بھی ذکر فرمایا۔اور غزوہ بدر کے موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مدینہ سے باہر جا کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے معاملہ پر ان سے رائے چاہی تو مہاجرین کی طرف سے ہر قسم کی قربانیاں پیش