سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 167

167 سبیل الرشاد جلد چہارم کرنے کے جواب کے باوجود جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار اس بارہ میں مشورہ طلب فرمایا تو ایک انصاری صحابی نے عرض کی کہ شاید حضور ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ سے پہلا معاہدہ اس وقت ہوا تھا اور وہ آپ کی حفاظت اس صورت میں کرنے کا تھا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہو۔لیکن جب یہ معاہدہ ہوا تھا اس وقت ہم آپ کے پیارے وجود اور آپ کی پیاری تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔اب حقیقت ہم پر مکمل طور پر روشن ہوگئی ہے۔ہم موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہیں گے کہ تو اور تیرا رب جا کر دشمن سے لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہمارا جواب وہی ہے جو مہاجرین دے چکے ہیں۔ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی۔آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی اور دشمن ہماری لاشوں کو روندتے ہوئے ہی آپ تک پہنچ سکے گا۔حضور انور نے فرمایا کہ یہ تھا فدائیت کا نمونہ جو انصار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی سے فیض پانے کے بعد دکھایا۔حضور انور نے اسی طرح غزوہ اُحد کے موقع پر اس انصاری کے اخلاص اور فدائیت سے معمور پیغام کا بھی ذکر فرمایا جو انہوں نے شدید زخمی حالت میں جام شہادت پانے سے چند لمحے قبل اپنی آخری خواہش کے طور پر دیا تھا۔انہوں نے اپنی قوم کے لئے پیغام دیا تھا کہ میں اپنے پیچھے تمہارے سپرد خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت کر کے جا رہا ہوں۔میں جب تک زندہ رہا اس کی حفاظت کرتا رہا۔اب اگر میری آخری نصیحت کا پاس ہے تو اس رسول کی حفاظت کرنا۔حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ صحابہ نے جب نَحْنُ انْصَارُ الله کا اعلان کیا تو اپنا سب کچھ اللہ اور رسول اور اس کے دین پر فدا کر دیا۔یہ نمونے ہیں جو آج انصار اللہ نے دکھانے ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ اللہ کے حقوق بھی ادا کرو، عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرو۔اعلیٰ اخلاق اور مالی قربانیوں کے بھی ایسے نمونے قائم کرو جو خدام کے لئے ، آپ کی بیویوں اور بچوں کے لئے مثال بن جائیں۔حضور انور ایدہ اللہ نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں تحریک جدید میں مالی قربانی کے سلسلہ میں برطانیہ کی جماعتوں کا جو جائزہ پیش کیا تھا اس کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس جائزے کو آپ کو جھنجوڑ دینا چاہئے۔حضور انور نے تحریک جدید میں پاکستانی احمدیوں کی قربانی کا ایک دفعہ پھر نہایت تحسین بھرے کلمات میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ باوجود نا مساعد حالات کے ان کی مالی قربانی میں گزشتہ سال کی مالی قربانی سے بھی اضافہ تھا اور اضافہ بھی بہت زیادہ تھا۔آپ کی اکثریت وہیں سے آئی ہے۔کیا وجہ ہے کہ جب وہاں ہوتے ہیں تو باوجود حالات خراب ہونے کے قربانیاں کرتے ہیں۔یہاں آتے ہیں تو دوسری ضروریات کا خیال آجاتا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ جتنے بلند معیاروں تک آپ اپنی آئندہ نسلوں کو لے جانا چاہتے ہیں