سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 165

165 سبیل الرشاد جلد چہارم بیٹھے ہیں، فارغ بیٹھے یہ مطالبے کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا کسی طرح باہر جانے کا انتظام ہو جائے ، بعض لڑکوں کے ماں باپ لکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے حالات خراب ہیں باہر بلوالیں۔باہر بلوانا کون سا آسان ہے۔یا ہماری شادی باہر کروادیں یا جو بھی ذریعہ ہو۔اور ایسے لوگوں میں سے جب کسی کی شادی یہاں ہو جاتی ہے اور یہاں آجاتے ہیں تو جب ان ملکوں میں ان کا Stay پکا ہو جاتا ہے تو پھر بیویوں پر ظلم کرنے شروع کر دیتے ہیں یا چھوڑ دیتے ہیں۔یہ بھی ایک غلط رو خاص طور پر پاکستان میں اور ہندوستان میں چل پڑی ہے۔ایسے نوجوانوں کو میں کہتا ہوں کہ اپنے ملک میں محنت کی عادت ڈالیں اور محنت کر کے کھائیں۔اس دوران میں اگر باہر کا کوئی انتظام ہو جاتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن صرف اس لئے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھے رہنا کہ باہر جاتا ہے، اس سے بہت ساری غلط قسم کی عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور بہت ساری برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر وہ برائیاں معاشرے میں ، اس ماحول میں پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں۔اسی طرح بعض ایسے ہیں جو یہاں آ کر بھی ہنر نہیں سیکھتے ، زبان نہیں سیکھتے ، اور ذراسی کوئی تکلیف ہو جائے تو بیماری کا بہانہ کر کے گھر بیٹھ جاتے ہیں۔کیونکہ مددمل جاتی ہے اس لئے کام نہیں کرتے۔بریکاری کی عادت کے خلاف ایسی مہم یہاں بھی چلانے کی بہت ضرورت ہے" (خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 555) انصار اللہ کا ایک بہت بڑا کام خلافت کی حفاظت کرنا اور بیوی ، بچوں میں اس کی اطاعت کی روح پیدا کرنا ہے حضور انور نے مجلس انصار اللہ UK کے 24 ویں سالانہ اجتماع کے موقعہ پر 5 رنومبر 2005ء کو فرمایا: " حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ انصار کو مخاطب کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ قرآن کریم میں انصار کا لفظ ماننے والوں کے لئے دو جگہ استعمال ہوا ہے۔ایک جگہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق اور ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق۔حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ یہ بڑا اہم نکتہ ہے۔اگر انصار اس پر غور کریں تو مجلس انصار اللہ جماعت کا ایک انتہائی فعال حصہ بن سکتی ہے۔حضورانور نے فرمایا کہ قرآن کریم میں جہاں حضرت عیسی کے تعلق میں لفظ انصار اللہ استعمال ہوا ہے وہاں ایک جگہ تو وہ خود اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ قوم کفر پر اصرار کر رہی ہے تو کون ہے جو میرا مددگار ہوگا۔اس پر حواریوں نے کہا کہ ہم انصار اللہ ہیں اور اطاعت اور فرمانبرداری میں صف اول میں شمار ہوتے ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ اس کی ایک صورت اس زمانے میں ظاہر ہوئی کہ ہم اس زمانے کے امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر اس کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں اور اس کی باتوں پر مکمل عمل کا اعلان کرتے ہیں۔تو حضرت عیسی کے حواریوں کی طرح آپ کو بلایا گیا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے اس امام