سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 143
143 سبیل الرشاد جلد چہارم کے آخر پر امتحان لیں۔بے شک کتاب کو دیکھ کر ہی امتحان دیں۔اس طرح انصار کو عادت ڈالیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔حضور انور نے فرمایا باقی سلیس جو آپ نے بنایا ہے وہ نے آنے والوں کے لئے ہے اور ان کے لئے ہے جو دنیا داری میں پڑے ہوئے ہیں۔قائد تحریک جدید سے حضور انور نے چندہ میں شامل انصار کا جائزہ لینے کے بعد ہدایت فرمائی کہ جو انصار باقی رہ گئے ہیں ان کو بھی شامل کریں۔قائد مال سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے بجٹ اور چندہ دینے والے انصار کی تعداد اور ان کے فی کس چندہ کے معیار کا تفصیل سے جائزہ لیا۔حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ بعض انصار بہت اچھا کمانے والے ہیں اور بعض کی آمد بہت کم ہے۔یہ آمد میں جو فرق ہے اس حساب سے ان سے اپنا چندہ لیں۔آپ نے دونوں کو ایک ہی سٹیج پر رکھا ہوا ہے حالانکہ دونوں کی آمد میں غیر معمولی فرق ہے۔حضور انور نے فرمایا ابھی جو طریق چل رہا ہے اس کے مطابق کریں پھر مجلس شوری میں ڈسکس کر کے اپنی رپورٹ بھجوائیں۔قائد اشاعت کو حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ مجلس انصار اللہ کا اپنا ماہانہ بلیٹن ہونا چاہئے خواہ دو چار ورق کا ہی نکال لیں۔اس میں انصار اللہ کی مساعی درج ہو۔انصار کے مختلف تربیتی تعلیمی پروگرام ہیں ان کا ذکر ہو۔کوئی کتاب مقرر ہے تو اس کا ذکر ہو کہ اس کا امتحان ہوگا۔مختلف پروگراموں کی اطلاع ہو۔انصار کے لئے اعلانات وغیرہ ہوں انصار کے لئے نصائح اور ہدایات ہوں۔اس طرح انصار کی دلچسپی کے لئے سامان پیدا کر دیا کریں۔الفضل انٹر نیشنل 26 مئی 2006ء) انصار اللہ کی تنظیم اس امر کا جائزہ لے کہ شکوہ کر نیوالے کیوں پیدا ہوتے ہیں ذیلی تنظیموں کو احباب کی عملی اصلاح کے لئے پلانٹنگ کرنی چاہئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 21 اپریل 2006ء میں فرمایا: " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی کو برا بھلا کہہ دیا تو جس کو بُرا بھلا کہا جاتا ہے وہ اس قدر غصے میں آجاتا ہے کہ مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔جس طرح اس نے ساری زندگی برائی کی نہ ہو۔فرمایا کہ اگر ہر کوئی اپنی برائیوں پر نظر رکھے تو کسی کے کچھ کہنے پر بھی غصے میں نہ آئے اور صبر اور برداشت سے کام لے۔اور جب ہر کوئی صبر اور برداشت سے کام لے گا تو بہت سے چھوٹے چھوٹے مسائل اور گلے شکوے پیدا ہی نہیں ہوں گے یا پیدا ہوتے ہی ختم ہو جائیں گے۔ایک بزرگ کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ وہ بازار میں جارہے تھے تو ایک شخص نے ان کو برا بھلا