سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 86
86 سبیل الرشاد جلد چہارم رنجش کی وجہ سے کسی کے خلاف ایسی کارروائی نہ کریں جس سے ان کے عہدے کا ناجائز استعمال ظاہر ہوتا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو موقع دیا ہے کہ وہ جماعتی عہد یدار بنایا گیا ہے اس پر خدا کا شکر کریں۔، نہ کہ اس وجہ سے گردنیں اکٹر جائیں اور تکبر اور رعونت پیدا ہو جائے۔جماعتی عہدیداران کو اپنی عبادتوں میں بھی اور اعلیٰ اخلاق میں بھی ایک نمونہ ہونا چاہئے۔عاجزی اور انکساری کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرنے چاہئیں۔عدل اور انصاف کے بھی تمام تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔پس جہاں ایک عام احمدی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے، صبر سے کام لے، ایک دوسرے کے قصوروں کو معاف کرنے کی عادت ڈالے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق جماعت کا فرد بنے تا کہ دشمن کے ہنسی ٹھٹھا سے بھی بچے۔کیونکہ جب احمدی اتنے دعووں کے بعد ایسی غلطیاں کرتا ہے تو دشمن کے لئے جماعت پر انگلیاں اٹھانے کا باعث بنتا ہے، مخالفین کے لئے جماعت پر انگلیاں اٹھانے کا باعث بنتا ہے۔اور کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی غیرت رکھتا ہے ایسی حرکتوں کی وجہ سے وہ احمدی جس نے دشمن کو نسی کا موقع دیا اللہ تعالیٰ کے قرب سے گر جاتا ہے۔تو جب ایک عام احمدی کی ایسی حرکتوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا تو جو عہد یدار ہیں وہ تو پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں زیادہ ہیں۔اس لئے ان کو اور زیادہ استغفار کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کا اہل بنائے کہ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرسکیں" خطبات مسر در جلد 3 صفحہ 375-384) جماعتی وقار کے خلاف ہر بات عہد یداران کو بتلائیں حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے یکم جولائی 2005ء کو کینیڈا کے جلسہ سالانہ کے بعد اگلے خطبہ جمعہ میں عہدیداران کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا۔"یا درکھیں جہاں محبت کرنے والے دل ہوتے ہیں وہاں فتنہ پیدا کرنے والے شیطان بھی ہوتے ہیں جو اس تعلق کو توڑنے یا اس تعلق میں رخنے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس ایسے لوگوں سے بھی آپ کو ہوشیار رہنا چاہئے۔اپنے ماحول پر نظر رکھنی ہے۔کہیں سے بھی کوئی ایسی بات سنیں جو جماعتی وقار یا خلافت کے احترام کے خلاف ہو تو فوری طور پر عہدیداران کو بتائیں ، امیر صاحب کو بتا ئیں، مجھے بتائیں۔کیونکہ بعض دفعہ بظاہر بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن اندر ہی اندر پکتی رہتی ہیں اور پھر بعض کمزور طبائع کو خراب کرنے کا باعث بنتی ہیں۔عہدیداران بھی اپنے اندر یہ عادت پیدا کریں کہ جب ایسی باتیں سنیں تو سن کر سرسری طور پر دیکھنے کی بجائے اس کی تحقیق کر لیا کریں، یاکم از کم نظر رکھا کریں۔ایک دفعہ اگر سنی ہے تو ذہن میں رکھیں اور اگر دوبارہ سنیں تو بہر حال اس پر توجہ دینی چاہئے۔امیر صاحب کو بتا ئیں پھر مجھے بھی بتا ئیں اسی