سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 87

87 سبیل الرشاد جلد چہارم واسطے سے بعض دفعہ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ چھوٹی سی بات لگ رہی ہوتی ہے اس لئے کہ ہر ایک کو اس کے پس منظر کا ، بیک گراؤنڈ کا پتہ نہیں ہوتا۔اس کی جڑیں کسی اور جگہ ہوتی ہیں۔اس لئے کسی فتنے کو بھی چھوٹا نہ سمجھیں ، اگر کوئی ایسی بات ہے جو وقتی ہے، آپ کے نزدیک سطحی سی بات ہے، اور غصے میں کسی نے کہہ دی ہے تو اس کا پتہ چل جاتا ہے۔اور ان وقتی شکایتوں اور شکووں کو دور کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔اور عہد یداروں کی طرف سے بھی کی جانی چاہئے۔عہد یداروں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور ایسی باتیں سننی چاہئیں تا کہ توجہ نہ دینا فرد جماعت اور عہد یداروں میں دوری پیدا کرنے کا باعث نہ بن جائے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا جب بھی کسی بات کا مجلسوں میں ذکر ہورہا ہے اور پھر شرارت پھیلانے کی غرض سے ذکر ہورہا ہے تو اس کا پتہ چل جاتا ہے۔بہر حال ہر صورت میں جب بھی آپ کوئی ایسی بات سنیں جس میں ذراسی بھی نظام کے خلاف کسی بھی قسم کی بو آتی ہو تو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اس لئے یہاں سمیت تمام دنیا کے عہدیداران بھی اور امراء بھی جہاں جہاں بھی ہیں، ان سے میں کہوں گا کہ اپنے آپ کو ایک حصار میں، ایک شیل (Shell) میں بند کر کے یا محصور کر کے نہ رکھیں ، جہاں صرف ایسے لوگ آپ کے اردگرد ہوں جو سب ٹھیک ہے“ کی رپورٹ دینے والے ہوں۔بلکہ ہر ایک احمدی کی ہر متعلقہ امیر اور عہدیدار تک پہنچ ہونی چاہئے تا کہ ہر طبقے اور ہر قسم کے لوگوں سے آپ کا براہ راست تعلق ہو۔بعض دفعہ بعض نوجوان بھی ایسی معلومات دیتے ہیں اور ایسی عقل کی بات کہہ دیتے ہیں جو بڑی عمر کے لوگ یا تجربہ کارلوگوں کے ذہن میں نہیں آتی۔اس لئے کبھی بھی کسی بھی نوجوان کی یا کم پڑھے لکھے کی بات کو تخفیف یا کم نظر سے نہ دیکھیں۔وقعت نہ دیتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ہر بات کو توجہ دینی چاہئے۔پھر بعض دفعہ نو جوانوں کے ذہنوں میں بعض سوال اٹھتے ہیں اور اس معاشرے میں اور آج کل کے نواجونوں کے ذہن میں بھی باتیں اٹھتی رہتی ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ اور ایسا کیوں نہیں ہے؟۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو بھی لجنہ اماءاللہ کو بھی اور جماعتی عہد یداران کو بھی ایسے نو جوانوں کی تسلی کرانی چاہئے ، ان کو تسلی بخش جواب دینے چاہئیں تا کہ کسی فتنہ پرداز کو ان کو استعمال کرنے کا موقع نہ ملے۔عہد یداران خدمت کے لئے مقرر کئے گئے ہیں پھر عہدیداران جو جماعتی نظام میں عہدیداران ہیں وہ صرف عہدے کے لئے عہد یدار نہیں ہیں بلکہ خدمت کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔وہ نظام جماعت، جو نظام خلافت کا ایک حصہ ہے، کی ایک کڑی ہیں۔ہر عہد یدار اپنے دائرے میں خلیفہ وقت کی طرف سے ، نظام جماعت کی طرف سے تفویض کئے گئے ، ان کے سپرد کئے گئے اس حصہ فرض کو صحیح طور پر سر انجام دینے کا ذمہ دار ہے۔اس لئے ایک عہد یدار کو بڑی محنت سے، ایمانداری سے اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے کام کو سر انجام دینا چاہئے۔اور