سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 85
سبیل الرشاد جلد چہارم 85 باعث بن رہی ہیں تو یہی چیزیں ہیں جو بندے کو خدا تعالیٰ کے سایہ رحمت میں رکھ رہی ہیں اور سایہ رحمت میں رکھنے کے قابل بنا رہی ہیں۔پس احمدی کی دنیا داری بھی دین کی خاطر ہونی چاہئے۔پھر ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان ، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو۔اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بعض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔چاہئے کہ ابتدا میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بد گوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینہ کو ہرگز نہ بڑھا دے۔جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے۔جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔پس جب تک تبدیلی نہ ہو گی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ جماعت کا ایک حصہ ابھی تک ان اخلاق میں کمزور ہے۔ان باتوں سے صرف شماتت اعداء ہی نہیں ہے بلکہ ایسے لوگ خود بھی قرب کے مقام سے گرائے جاتے ہیں" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 99، البدر صفحه 3 تا 8 مورخہ 8 ستمبر 1904ء) عہد یداران عبادتوں اور اعلیٰ اخلاق میں نمونہ بنیں پس ہم میں سے ہر ایک اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں سے کہلا سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد اعلیٰ اخلاق بھی اپنائے جائیں۔دراصل تو اعلیٰ اخلاق بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کا ہی ایک حصہ ہیں۔کیونکہ اعلیٰ اخلاق بھی تقویٰ سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے اندر اپنی محبت اور اس کے نتیجے میں تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور جن برائیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے ان سے مکمل بچنے والے ہوں۔اپنے دلوں کو کینوں اور بغضوں سے پاک کرنے والے ہوں۔اپنی ذاتی رنجشوں کو جماعتی رنگ دینے والے نہ ہوں۔کسی عہد یدار سے ذاتی عناد یا رنجش کی وجہ سے اس عہدیدار کی حکم عدولی کرنے والے نہ ہوں۔اور اسی طرح عہدیداران بھی اپنی کسی ذاتی