سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 355
355 سبیل الرشاد جلد چہارم ہے۔چنانچہ لِبَاسُ التَّقوى قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی اُن کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے۔" (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 208 تا210 ) پس جب تک تقویٰ کے معیار اونچے نہیں ہوں گے، اُس وقت تک اپنی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔یہ امانتیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ، خدا تعالیٰ کی بھی ہیں اور بندوں کی بھی۔اور ایک عہدیدار خاص طور پر دونوں طرح کی امانتوں کا امین متصور ہوتا ہے اور ہے۔پس میں پھر افراد جماعت کو ، جنہوں نے اپنے عہدیدار منتخب کرنے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے ، اُن کے حق میں رائے دیں جو دونوں طرح کی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا کرنے والے ہوں۔اور یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب ہر طرح جماعت کا تقویٰ کا معیار بھی بلند ہو۔جب ہر ووٹ دینے والے کا تقویٰ کا معیار بلند ہو گا تبھی یہ حالت ہوگی۔پس جماعت کے ہر فرد کو اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے معیاروں کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عہدیدار جیسا کہ میں نے کہا، افراد جماعت نے منتخب کرنے ہیں اور افراد جماعت میں سے منتخب ہونے ہیں، اس لئے وہ چند خوبیاں جو ہم میں سے ہر ایک میں بحیثیت مومن ہونی چاہئیں اور خاص طور پر عہد یداروں میں ہونی چاہئیں، اُن کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔عہدوں کی پابندی کی بات ہے تو سب سے پہلے اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر جماعت میں عہدوں کی پابندی کا معیار بلند ہوگا تو عہدیداروں کا عہدوں کی پابندی کا معیار بھی بلند ہوگا۔بندوں کے حقوق میں سے جن کی ادائیگی میں کمزوری ہے، وہ اپنے معاہدوں کو پورا نہ کرنا ہے یعنی معاہدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے حقوق ادا نہیں ہوتے۔اس کے لئے اگر اپنے پرختی بھی برداشت کرنی پڑے تو برداشت کر لینی چاہئے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بہت سے کاروباری معاہدے ہوتے ہیں، اعتراض کرنے والے دوسرے پر تو فوراً اعتراض کر دیتے ہیں لیکن اپنے معاملات صاف نہیں ہوتے جس سے معاشرے میں فساد کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔اسلام ایک امن پسند دین ہے، ایک امن پسند مذہب ہے۔جتنا زیادہ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے، اتنا ہی مسلمانوں میں بدعہدی اور فتنہ و فساد کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔اور معاشرے میں رہنے کی وجہ سے اس کا اثر ہم احمد یوں پر بھی پڑ رہا ہے۔