سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 356

سبیل الرشاد جلد چہارم عہد کی اہمیت 356 عہد صرف باہر کے کاروباری عہد نہیں ہیں، بلکہ ہر جگہ کے عہد ہیں، باہر بھی اور اندر بھی۔گھر یلو سطح پر بھی۔میاں بیوی کی شادی کا بندھن ہے، یہ بھی ایک معاہدہ ہے۔اس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔بعض لوگ جماعتی کاموں کو بڑے احسن رنگ میں انجام دیتے ہیں، کئی دفعہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، لیکن گھروں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ہوتے۔یہ بھی اپنے عہدوں سے روگردانی ہے، یا اُن کی پابندی سے روگردانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل گرفت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا۔( بنی اسرائیل: 35) یعنی ہر عہد کی نسبت یقیناً ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے نیک آدمی کی یہ نشانی بتائی ہے صحیح مومن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وَالمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوْا (البقره:178) جب وہ عہد کریں تو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں۔پس ہر احمدی نے اگر اپنے نیک عہدیدار منتخب کرنے ہیں تو ہر سطح پر اپنے بھی جائزے لینے ہوں گے کہ کس حد تک وہ خود اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں۔کس حد تک وہ خود اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہیں۔۔۔۔۔۔۔عہدیدار جماعتی اموال کو احتیاط سے خرچ کریں۔۔۔۔پھر عہدیدار کی ایک خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ جماعتی اموال کو خاص طور پر بہت احتیاط سے خرچ کریں۔کسی بھی صورت میں اسراف نہیں ہونا چاہئے۔اسی لئے خاص طور پر وہ شعبے جن پر اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور اُن کے بجٹ بھی بڑے ہیں، انہیں صرف اپنے بجٹ ہی نہیں دیکھنے چاہئیں بلکہ کوشش ہو کہ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔مثلا ضیافت کا شعبہ ہے لنگر کا شعبہ ہے یا جلسہ سالانہ کے شعبہ جات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لنگر اب دنیا میں تقریباً ہر جگہ پھیل چکا ہے۔اور جلسہ سالانہ کا نظام بھی دنیا میں پھیل چکا ہے۔ہر دو شعبوں کے نگرانوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔اگر بجٹ میں گنجائش بھی ہو تو جائزہ لے کر کم سے کم خرچ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہی امانت کے حق ادا کرنے کا صحیح طریق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مال کے آنے کی یا اُس کی فراوانی کی کوئی فکر نہیں تھی ہیچ خرچ کرنے والوں کی فکر تھی۔پس امراء اور متعلقہ عہد یداران اس بات کا خاص خیال رکھیں۔عہد یدارلغویات سے پر ہیز کریں پھر ایک عہدیدار کی ایک خصوصیت یہ ہونی چاہئے ، گو کہ ہر مومن کی یہ نشانی ہے لیکن جن کے سپر د جماعتی ذمہ داریاں کی جاتی ہیں اُن کا سب سے بڑھ کر یہ کام ہے کہ لغویات سے پر ہیز کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون : 4) یعنی مومن وہ ہیں جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔اور