سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 328
328 سبیل الرشاد جلد چہارم واپس چلا گیا۔سید کریم صاحب انچارج علاقہ کھمم آندھرا (انڈیا) لکھتے ہیں کہ مخالفین جب اپنی کوششوں میں ناکام رہے تو انہوں نے آخر میں ایک پلان بنایا کہ دیہاتی لوگ غریب ہوتے ہیں ان کو کچھ پیسے دیئے جائیں تو وہ احمدیت چھوڑ کر ہماری طرف مائل ہو سکتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اس جائیداد میں سے جو گورنمنٹ کی طرف سے وقف بورڈ کے تحت مسلمانوں کے لئے رکھی جاتی ہے کچھ زمین صدر صاحب جماعت احمد یہ کھمم اور ان کے بھائی شیخ کریم صاحب کو دینے کی کوشش کی اور ساتھ ہی ان کو ضلع میں ایک بڑا عہدہ دینے کی بھی پیشکش کی۔اس زمین کی قیمت پچاس لاکھ روپے تھی۔( انڈیا کی بات ہے۔) اس پر صدر صاحب نے اُن مخالفین احمدیت کو جواب دیا کہ ایمان کو دولت سے خریدنا چاہتے ہو؟ کتنے آدمیوں کو خریدو گے؟ آپ کی اس پچاس لاکھ کی جائیداد سے میں اللہ کے عذاب سے کس طرح بچ سکتا ہوں جو مجھے امام وقت کے انکار کی وجہ سے ملے گا۔اس طرح مخالفین کے ساتھ صدر صاحب کی پانچ گھنٹوں تک بحث ہوتی رہی اور آخر میں اُن سے کہا کہ آپ لوگ سمجھتے ہوں گے کہ دیہاتی لوگ غریب ہوتے ہیں۔اس لئے لالچ وغیرہ دے کر اُن سے سب کچھ کر وایا جا سکتا ہے۔آپ غلطی پر ہیں۔سچائی کے ساتھ مقابلہ مت کرو اور یہاں سے چلے جاؤ اور آئندہ ہمارے پاس کبھی نہ آنا۔یہ کہہ کر ان کو وہاں سے بھگا دیا۔اٹلی میں ایک نو مبائع نصر العامری صاحب بیان کرتے ہیں کہ سب سے بڑی چیز جو مجھے احمدیت میں آکر ملی ہے وہ شجاعت ہے، بہادری ہے۔میں سر اُٹھا کر مولویوں کے پاس جاتا ہوں اور انہیں کہتا ہوں کہ ان باتوں کا جواب دیں لیکن کوئی میرے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا۔کئی مولوی میرے گھر میں بھی آئے اور بعض عرب ممالک سے یہاں دورے پر آئے تو انہیں بھی مجھے احمدیت سے تائب کرنے کے لئے میرے گھر لایا جاتا رہا لیکن صرف وفات مسیح کے مسئلہ میں ہی وہ لا جواب ہو گئے۔موصوف نہایت گداز طبیعت کے مالک ہیں۔بڑی نرم طبیعت ہے اور بہت مخلص ہیں۔بات بات پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔قبل ازیں تبلیغی جماعت سے منسلک تھے اور احمدیت قبول کرنے کے بعد ان میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔اپنے گھر کی دیواروں پر بیعت کی قبولیت کے جو خطوط میری طرف سے گئے ہوئے تھے وہ بھی انہوں نے فریم کر کے لگائے ہوئے ہیں۔اب بعض باتیں بظاہر بڑی چھوٹی لگتی ہیں لیکن جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو بالکل دیہات میں ہیں، جن کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں۔جن میں نیا نیا ایمان داخل ہوا ہے وہ جب اپنی ہر بات کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر منتج کرتے ہیں تو بہر حال یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ایک انقلاب ہے جو اُن کی طبیعتوں میں پیدا ہوا۔اسی طرح کا ایک واقعہ ٹیچی مان غانا کا ہے۔یہاں ایک جگہ ہے اوفوری کروم (Oforikrom) یہاں ایک مخلص احمدی سعید