سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 329
329 سبیل الرشاد جلد چہارم عیسی رہتے ہیں۔ایک دن وہ اپنے زرعی فارم پر کام کرنے گئے۔کام کرنے کے دوران نماز کا وقت ہو گیا تو کام چھوڑ کر نماز پڑھنے چلے گئے۔نماز سے واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ درخت کی ایک بڑی شاخ اُس جگہ پر گری پڑی ہے جہاں وہ نماز سے پہلے کام کر رہے تھے اور اچانک گری تھی۔اگر نماز پڑھنے نہ جاتے تو وہ درخت کی شاخ اُن کی موت کا بھی باعث بن سکتی تھی۔اس بات نے اُن کے ایمان میں اضافہ کیا کہ دیکھو نماز کی وجہ سے میری جان بچ گئی۔اسی طرح بعض نا مساعد حالات میں الہی حفاظت کے واقعات ہیں۔بینن کے جگو ریجن کے اجتماع کا انعقاد جینگو (Japango) جماعت میں کیا گیا جو ایک نو مبائع جماعت ہے۔دورانِ اجتماع جو گو شہر سے کچھ مولوی اپنے کارندوں کے ساتھ ڈنڈے اور لاٹھیاں لے کر مسجد میں آگئے کہ ہم احمدیوں کو مار بھگائیں گے، اُن کا اجتماع نہیں ہونے دیں گے۔یہ بالکل نئے احمدی جوشِ ایمان سے لبریز تھے۔بالکل نئے احمدی تھے لیکن بہر حال اُن میں ایمان تھا۔کہتے ہیں مخالفین کو دیکھ کر اپنے لوکل مشنری سے کہنے لگے کہ آپ مسجد کے اندر چلے جائیں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح حملہ کرتے ہیں۔چنانچہ وفد کی صورت میں مخالفین کو سمجھانے لگے۔پہرہ دینے لگے جب کہ مخالفین اُن کی بات سننے کو تیار نہ تھے۔آخر لوکل مشنری صاحب ہی آگے بڑھے کہ بتاؤ کہ کس آواز اور پیغام کو تم روکنا چاہتے ہو۔افریقنوں میں کم از کم یہ عقل اور شعور ہے جو آپ کو آجکل کے پاکستانی ملاں میں نظر نہیں آئے گا۔کہتے ہیں کہ تم ہمیں کس بات سے روک رہے ہو۔اس وقت کا جو امام ہے وہ پیغام دیتا ہے کہ تو حید الہی پر قائم ہو جاؤ اور اکٹھے ہو کر اسلام کا جھنڈا اور آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور جھنڈا بلند کرو۔کیا تم اس آواز کو روک دینا چاہتے ہو جو قرآن کریم کی تصدیق کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شاہد ہے اور عین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آیا ہے۔معلم صاحب کی گفتگو کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا اثر ہوا۔اور ایک ایک کر کے اُن میں سے لوگ جانے شروع ہو گئے اور مولوی صرف اکیلے ہی رہ گئے۔امیر صاحب ٹوگو بیان کرتے ہیں کہ متحجہ احمد صاحب Motidia Ahmad) نو مبائع ہیں۔یہ آما تو (Amato) کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے ( جماعت احمدیہ آماتو کے ) جلسہ نومبائع کے دوران گواہی دی کہ وہ بیس سال سے مسلمان ہیں اور اب تک انہیں نہ تو صحیح نماز پڑھنی آتی ہے اور نہ ہی اسلام کے بارے میں کچھ معلوم تھا۔کیونکہ مولوی کو صرف پیسے سے پیار ہوتا ہے۔تعلیم دینے اور شادی بیاہ عقیقہ وغیرہ کے موقع پر پیسے کا لالچ ہوتا ہے حتی کہ جنازہ پڑھانے کی بھی فیس ہے۔اس کے بغیر مولوی جنازہ نہیں پڑھاتے۔لیکن خدا کے فضل سے دو سال پہلے جب سے احمدی ہوا ہوں احمدی معلم اور مبلغین نے جس رنگ سے تربیت کی ہے، اُس کی وجہ سے اب مجھے اسلام کے بارے میں بہت سی معلومات ملی ہیں اور اب میں ایک داعی الی اللہ کے طور