سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 12

سبیل الرشاد جلد چہارم 12 ہمارے اجتماع کا مقصد، افراد جماعت کے دل آخرت کی طرف جھکنا اور ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف پیدا کرنا ہے سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ کیرالہ منعقدہ 6-7 ستمبر 2003ء کے موقع پر حضور کا پر معارف پیغام میرے پیارے بھائیو ! ( مجلس انصار اللہ کیرالہ ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الحمد للہ کہ مجلس انصار اللہ کیرالہ اپنا 2 روزہ سالانہ اجتماع کروانے کی توفیق پارہی ہے۔اللہ اس اجتماع کو بہت مبارک فرمائے اور تمام انصار بھائیوں کو جو اس اجتماع میں شرکت کے لئے سفر کر کے آرہے ہیں اپنی حفاظت میں رکھے اور اس اجتماع کے روحانی اور تربیتی پروگراموں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے۔ہمارے جلسوں اور اجتماعات کا اصل مدعا اور مقصد یہ ہے کہ تمام افراد جماعت کے دل بکلی آخرت کی طرف جھک جائیں۔اور ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہوا ور وہ زہد و تقویٰ اور پرہیز گاری میں دوسروں کے لئے نمونہ بن جائیں اور انتہائی انکسار اور تواضع اور استبازی ان میں پیدا ہو۔دنیا کفر وضلالت اور مادہ پرستی میں گم ہو کر اپنے خالق حقیقی کو بھلا چکی ہے اور وہ لوگ جو بظاہر مسلمان کہلاتے ہیں وہ درحقیقت اس وقت خدا سے دور جا پڑے ہیں۔امانت اور دیانت نا پید ہو چکی ہے اور دل تقوی سے عاری ہیں۔جھوٹ ، نخوت، تکبر اور خود پسندی نے انسانیت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔اس دور میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا قیام اس غرض سے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو اور وہ انسان جو خدا سے دور ہورہا ہے اسے پیار اور محبت سے سمجھا کر خدا کے قریب لایا جائے۔اس سلسلہ میں ہم پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم خود اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق قائم کریں اور اس کے حقیقی عبد بن جائیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نفسانی جذبات کو بکلی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کرو۔درد جس سے وہ راضی ہو اس لذت سے بہتر ہے جس سے خدا ناراض ہو جائے اور وہ شکست جس سے خدا راضی ہو اس فتح سے بہتر ہے جو موجب غضب الہی ہو۔اس محبت کو چھوڑ دوجو خدا کے غضب کے قریب کرے۔۔۔۔۔۔۔دیکھو میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ آدمی ہلاکت شدہ ہے جو دین کے ساتھ کچھ دنیا کی ملونی رکھتا ہے اور اس نفس سے جہنم بہت قریب ہے جس کے تمام ارادے خدا کے لئے نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔پس اگر تم