سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 11

سبیل الرشاد جلد چہارم 11 اللہ اور رسول کی طرف کو ٹا دیا کرو اگر (فی الحقیقت) تم اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہت بہتر ( طریق) ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔تو سوائے اس کے کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے جہاں واضح شرعی احکامات کی خلاف ورزی کے لئے تمہیں کہا جائے، اللہ اور رسول کی اطاعت اس میں ہے کہ نظام جماعت کی ، عہد یداران کی اطاعت کرو، ان کے حکموں کو ، ان کے فیصلوں کو مانو۔اگر یہ فیصلے غلط ہیں تو اللہ تمہیں صبر کا اجر دے گا۔کیونکہ تم یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوتو اللہ پر معاملہ چھوڑ وہ تمہیں اختیار نہیں ہے کہ اپنے اختلاف پر ضد کرو۔تمہارا کام صرف اطاعت ہے، اطاعت ہے،اطاعت ہے" خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 260-261) عہد یداران بُرائی کی تشہیر نہ کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 22 اگست 2003ء میں فرمایا۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سننا اور اطاعت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔خواہ وہ امر اس کو پسند ہو یا نا پسند۔یہاں تک کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔اور اگر معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اطاعت اور فرمانبرداری نہ کی جائے۔( صحیح بخاری کتاب الاحکام باب اسمع والطاعة لا مام۔۔۔۔) تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ سوائے اس کے کہ شریعت کے واضح احکام کی خلاف ورزی ہو۔ہر حال میں اطاعت ضروری ہے اور اس حدیث میں بھی یہی ہے۔یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تم گھر بیٹھے فیصلہ نہ کرلو کہ یہ حکم شریعت کے خلاف ہے اور یہ حکم نہیں۔ہو سکتا ہے تم جس بات کو جس طرح سمجھ رہے ہو وہ اس طرح نہ ہو۔کیونکہ الفاظ یہ ہیں کہ معصیت کا حکم دے، گناہ کا حکم دے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام جماعت اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ کوئی ایسا شخص عہدیدار بن ہی نہیں سکتا جو اس حد تک گر جائے اور ایسے احکام دے۔تو بات صرف اس حکم کو سمجھنے ، اس کی تشریح کی رہ گئی۔تو پہلے تو خود اس عہد یدار کو توجہ دلاؤ۔اگر نہیں مانتا تو اس سے بالا جو عہدیدار ہے، افسر ہے، امیر ہے، اس تک پہنچاؤ۔اور پھر خلیفہ وقت کو پہنچاؤ۔لیکن اگر یہ تمہارے نزدیک برائی ہے تو پھر تمہیں یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ باہر اس کا ذکر کرتے پھرو۔کیونکہ برائی کو تو وہیں روک دینے کا حکم ہے۔اب تمہارا یہ فرض ہے کہ نظام بالا تک پہنچاؤ اور اس کے فیصلے کا انتظار کرو" (خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 265 )