سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 284
284 سبیل الرشاد جلد چہارم مرید ہے وہ تو کوڑھا ہے۔اس کے ہاتھ کی انگلیاں گل چکی ہیں اور وہ ہر وقت برقعہ پہنے رکھتا ہے۔میں نے کہا میں ابھی قادیان سے آ رہا ہوں، اس شخص کا چہرہ تو ایسا خوبصورت ہے کہ ہر وقت اس پر نور برستا رہتا ہے تم کو یہ کس نے بات بتائی ہے۔حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ بہر حال یہ تو مخالفین کا شیوہ ہے اور کوئی دلیل ہاتھ نہیں آتی تو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔پھر ایک روایت ہے حضرت حکیم عبدالرحمن صاحب ولد حضرت حکیم اللہ دتہ صاحب گوجرانوالہ کی ، جنہوں نے 1904ء میں بیعت کی تھی۔کہتے ہیں کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے والد صاحب کو احمدی پایا ہے۔میرے والد صاحب تین سو تیرہ صحابہ کی فہرست میں شامل ہیں۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے خواب میں دو جنگلے دیکھے۔لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آج قیامت کا دن ہے اور تمام مخلوقات اکٹھی ہو رہی ہیں۔یہ سن کر میں بھی جنگلے کی طرف گیا۔دروازے میں داخل ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ پہلے بائیں طرف جاؤ۔جو بھی ادھر سے ہو کر آئے گا اسے دائیں طرف جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔میں اسی طرف گیا تو دیکھا کہ حضرت مرزا صاحب کا دربار لگا ہوا ہے اور بے شمار مخلوق پاس موجود ہے۔میں نے ملاقات کی، ملاقات کے بعد مجھے اجازت دی گئی کہ اب آپ دائیں طرف جاسکتے ہیں۔میں بڑا خوش ہوا اور پھر نیند سے بیدار ہو گیا۔آسمان پر تارے ٹوٹنا حضرت مسیح موعود کی آمد کی علامت ہے بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں ایک مولوی علاؤالدین صاحب ہوا کرتے تھے۔ان کی یہاں قریب ہی ایک مسجد بھی ہے۔میرے والد صاحب ان کے پاس پڑھا کرتے تھے۔ایک دن عشاء کے وقت وضو کرتے کرتے میرے والد صاحب نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ مولوی صاحب آج کل آسمان سے تارے بہت ٹوٹتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ امام مہدی آنے والا ہے۔آسمان پر اس کی آمد کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ چند دن بعد میں نے حضرت اقدس کا ذکر سنا اور قادیان جا کر بیعت کر لی۔واپس آکر مولوی صاحب کو بھی کہا کہ میں نے تو بیعت کر لی ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ مگر وہ خاموش ہو گئے۔تھوڑی دیر بعد آہستہ سے بولے کہ میاں بات تو سچی ہے مگر ہم دنیا دار جو ہوئے۔کہتے ہیں کہ میں تقریباً دس سال کا تھا کہ میرے والد صاحب مجھے قادیان لے گئے اور قادیان کے ارد گرد سیر کرائی۔جب ہم مسجد نور کے پاس پہنچے جو کہ ابھی بنی ہوئی نہیں تھی ، غالباً بنیادیں رکھی گئی تھیں۔فرمایا کہ میاں ہم پہلے پہلے جب حضرت اقدس کے ساتھ آیا کرتے تھے تو بالکل جنگل تھا۔ہم حضور کے لئے کپڑا بچھا دیا کرتے تھے۔حضور وہاں بیٹھ جاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے اس وقت آپ لوگ یہاں کائی اور سر کنڈ اد یکھتے