سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 285

سبیل الرشاد جلد چهارم 285 ہیں ، ایک وقت یہاں خوب رونق ہوگی۔میر مہر غلام حسین صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم دونوں بھائی بازار میں جارہے تھے۔تمام بستی ہندوؤں کی تھی ایک بوڑھے شخص کو ہم نے قرآن پڑھتے سنا۔جب ہم واپس آئے تو پھر بھی وہ پڑھ رہا تھا۔میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ شخص پکا مسلمان اور بے دھڑک آدمی ہے جو ہندوؤں کی بستی میں قرآن پڑھ رہا ہے۔کہتے ہیں کہ بیعت کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھی تو پتہ لگا کہ یہ وہی شخص تھا جس کو میں نے خواب میں قرآن پڑھتے دیکھا تھا۔حضرت عیسی آسمان پر اور حضرت محمد زمین پر مدفون ہیں حضرت مہر غلام حسین صاحب ہی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص بنام رحیم بخش صاحب قوم درزی ان کی مسجد میں آیا کرتا تھا۔آکر کہنے لگا کہ مولوی صاحب! آج طبیعت بہت پریشان ہے۔میں نے اس کی وجہ پوچھی تو بیان کرنے لگا کہ حامد شاہ ایک فرشتہ اور باخدا انسان ہے اور مسلمان ان کی تعریف کرتے ہیں۔آج بہت غلطی ہوئی ہے۔آج انہوں نے اپنے ماموں عمر شاہ کو کہا ہے کہ ماموں جان آپ کا حضرت ابن ان سے بہت مریم کے بارہ میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ بیٹا! میرا تو یہی مذہب ہے کہ وہ زندہ آسمان پر ہیں کسی زمانے میں امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے آئیں گے۔شاہ صاحب نے کہا کہ ماموں صاحب! آج سے آپ میرے امام نہیں ہو سکتے۔کیونکہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے کہ ایک انسان کو حیبی و قیوم اور لازوال مانا جائے۔دوسری بات یہ ہے کہ سید و مولیٰ سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عقیدہ سے بڑی ہتک ہوتی ہے کہ وہ تو زمین میں مدفون ہوں اور حضرت عیسی آسمان پر اٹھائے جائیں۔عمر شاہ نے اس پر کہا کہ اچھا بیٹا ، آپ آگے کھڑے ہوا کریں اور میں پیچھے پڑھا کروں گا۔میں نے یہ بات سنتے ہی کہا کہ مولوی صاحب! میں نے مان لیا کہ مسیح مرگیا ہے۔اگر مسیح زندہ ہیں تو توحید میں بڑا فرق آتا ہے۔آپ یہ مت خیال کریں کہ احمدی ہوں، میں ابھی تک احمدی نہیں مگر مرزا صاحب کی بات ضرور سچی ہے۔میں کبھی گوارا نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کی جائے۔مولوی صاحب نے میرے منہ کے آگے ہاتھ رکھ دیا۔میں نے کہا مولوی صاحب! کیوں روکتے ہو؟ مولوی صاحب نے کہا کہ اگر آپ کا عقیدہ ہو گیا ہے کہ مسیح مر گیا تو اتنا جوش و خروش دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے کہا مولوی صاحب ! مسجد سے نکلتے ہی منادی کرتا چلا جاؤں گا کہ اگر حضرت عیسی آسمان پر ہیں تو محمد رسول اللہ کی ہتک ہے۔میں نے جاتے ہی اپنے والد صاحب کو سمجھایا اور میرا بڑا بھائی غلام حسین جو عارف والے کا امیر جماعت ہے وہ دونوں جل کر آگ بگولہ ہو گئے اور میرا نام دجال اور ملعون وغیرہ رکھا۔مجھے یہ خیال آیا کہ کل جمعہ پر مولویوں وغیرہ کا حملہ ہو گا۔میں نے رات کے وقت اس احمدی کو جس کو ہم نے مسجد سے روکا تھا ایک نوکر