سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 283
سبیل الرشاد جلد چہارم 283 پیشاب کرنے گیا ہوں مگر دیکھتا ہوں کہ باری کھلی ہے ( یعنی کھڑ کی کھلی ہے۔) میں حیران ہوا کہ آج کھڑ کی کیوں کھلی ہے۔میں جب باری کی طرف گیا تو دیکھا کہ ایک بزرگ ہاتھ میں کتاب لئے پڑھ رہے تھے۔میں نے سوال کیا کہ یہ کون سی کتاب ہے جو آپ پڑھ رہے ہیں انہوں نے جواب دیا یہ کتاب مرزا صاحب کی ہے اور ہم تمہارے لئے ہی لائے ہیں۔جب انہوں نے کتاب دی تو میں نے کہا کہ یہ تو چھوٹی سختی کی کتاب ہے؟ میں نے ان کے ٹریکٹ دیکھے ہیں وہ بڑی سختی کے ہوتے ہیں۔وہ بزرگ بولے کہ مرزا صاحب نے یہ کتاب چھوٹی سختی کی چھپوائی تھی اس پر میری آنکھ کھل گئی۔کہتے ہیں کہ میں نے خیال کیا کہ شاید میں دعا کر کے ان خیالات میں سویا تھا پر انہی کا اثر ہے۔مگر جب میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے اپنے گھر کی طرف آیا تو غلام رسول کی دُکان پر ایک شخص بیٹھا ہوا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔میں نے کہا یہ کون سی کتاب ہے جو پڑھ رہے ہو۔میاں غلام رسول نے اس کے ہاتھ سے یہ کتاب لے کر میرے ہاتھ میں دے دی اور کہا کہ تم جو کتاب مانگتے تھے یہ کتاب آپ کے لئے ہی میں لایا ہوں یہ آپ لے لیں۔میں نے کتاب کو دیکھ کر کہا کہ کتاب رات خواب میں مجھے مل چکی ہے۔اس پر میں نے ازالہ اوہام کے دونوں حصوں کو غور سے پڑھا اور اپنے دل سے سوال کیا کہ کیا اب بھی تمہیں کوئی شک وشبہ باقی ہے؟ میرے دل نے جواب دیا کہ اب کوئی شک وشبہ باقی نہیں،اس لئے میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔حضور ایدہ اللہ نے فرمایا: تو یہ لوگ تھے جن میں سعادت تھی اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت بھی مانگتے تھے۔اور پھر اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی بھی فرماتا تھا اور یہ نظارے ہمیں آج بھی بہت سی جگہوں پر نظر آتے ہیں۔پھر یہی روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بیٹھے تھے تو میری موجودگی میں وہاں ایک عیسائی لڑکا آ گیا۔اس نے ایک کاغذ پر کچھ اعتراضات لکھے ہوئے تھے اور دل میں یہ بات رکھی ہوئی تھی کہ اگر حضرت صاحب نے ان کے اعتراض کا بغیر دکھنے کے جواب دے دیا تو میں ان کو سچا سمجھوں گا۔چنانچہ جب حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے ، میں بھی ساتھ تھا۔دوران سفر حضرت اقدس نے ایک تقریر کی جو بالکل اس کے جوابات پر مشتمل تھی۔جب حضور واپس تشریف لائے تو اس لڑکے نے مسجد اقصیٰ میں میری موجودگی میں بیان کیا کہ واقعی میرے سوالات کے جوابات حضور کی تقریر میں آگئے ہیں۔مسیح موعود کا چہرہ ایسا خوبصورت ہے کہ اس پر نور برستا رہتا ہے پھر ایک روایت یہ کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں یہ بات عام مشہور تھی کہ حضرت اقدس کو نعوذ باللہ کوڑھ کی بیماری ہے۔اور اب تک مخالفین احمدیت اس قسم کے بھی بیہودہ اعتراضات کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ میں قادیان سے واپس گوجرانوالہ آیا ہی تھا کہ ایک شخص امام الدین نامی درزی جسے لوگ اس کے بُرے افعال کی وجہ سے پھٹکا کہا کرتے تھے، وہ دوڑتے دوڑتے میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جس کا تو