سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 245

245 سبیل الرشاد جلد چہارم کروائی جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں تم پر ڈالی ہیں اور جو تم پر عائد ہوتی ہیں شاید انہیں بھول رہے ہو علم تو اکثر کو ہوتا ہے اور یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جو جماعتی نظام میں شامل ہے اور جو اس عمر کو پہنچ گیا ہے اُس کو بعض باتوں کا علم نہیں۔علم تو ہے لیکن علم کے باوجود توجہ نہیں دی جارہی یا بھول رہے ہیں۔بہر حال جو بھی وجہ ہے یاد دہانی تو اس لحاظ سے کروائی جاتی ہے کہ جس بات پر توجہ نہیں دے رہے اور بھول رہے ہو اس پر توجہ کر دیا اگر توجہ ہے تو اُس معیار کے حصول کی کوشش کرو جو انصار کا ہونا چاہئے۔اس لئے یاددہانی میں یہی کہا جاتا ہے کہ ان امور کی طرف توجہ دو، ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ دو، ان کاموں کی طرف توجہ دو جو تمہارے ذمہ لگائے گئے ہیں۔عبادات کی طرف توجہ کریں صدر صاحب انصار اللہ سے جب میں نے پوچھا کہ کوئی خاص بات جو انصار کو کہنے والی ہے تو بتا ئیں۔انہوں نے کہا اور جیسا کہ انہوں نے رپورٹ میں پڑھا اور اجتماع کے دوران سیشن بھی ہوتے رہے کہ اس سال نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے کو ہم نے سب سے پہلی ترجیح میں رکھا ہے لیکن جو ٹارگٹ ہمیں حاصل کرنے چاہئے تھے وہ حاصل نہیں کر سکے۔اس لئے اگر اس طرف توجہ دلانا چاہیں تو دلا سکتے ہیں۔صدر صاحب کا یہ جواب جہاں مجھے حیران کرنے والا تھا وہاں فکر مند کرنے والا بھی تھا کیونکہ نو جوانوں اور بچوں کو تو یہ بار بار نصیحت کی جاتی ہے اور والدین کو اس کے لئے سب سے مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے کہ نمازوں کی طرف توجہ دو اور حقیقت میں والدین ہیں بھی ایک بہت مؤثر ذریعہ۔لیکن اگر ان میں خود ہی جن کی اکثریت انصار اللہ میں ہے، اس کام کی طرف پوری توجہ نہیں دی جارہی تو وہ بچوں اور نو جوانوں کو کس طرح نمازوں کی اہمیت کی طرف توجہ دلا سکتے ہیں یا ان پر نمازوں کی اہمیت واضح کر سکتے ہیں یا اس کی تلقین کر سکتے ہیں۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو اس قدر تر ڈو سے اس طرف توجہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ان کو تو اس اہتمام سے نمازیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔یہ بہت خطرناک چیز ہے۔اس طرف پوری توجہ نہ دینے کی وجہ سے جہاں خود انصار اللہ میں اپنی روحانی حالت میں ٹھہراؤ یا گراوٹ کا اظہار ہوتا ہے وہاں یہ امر اگلی نسلوں میں نمازوں کی اہمیت کی طرف توجہ نہ دلانے کا باعث بھی بن رہا ہے۔تقویٰ سے دور لے جانے والا بن رہا ہے اور پھر انصار اللہ کی عمر تو ایک ایسی عمر ہے جس میں زندگی کے انجام کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔آخر کار بڑھتی عمر کے ساتھ ایک دن انسان کا خاتمہ ہونا ہے اور وہی انجام ہے۔تو انجام کی طرف یہ جو تیزی سے بڑھتے ہوئے قدم ہیں وہ تو بہت زیادہ فکر اور تردد کے ساتھ اس طرف توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں۔پس ایک مومن جسے خدا تعالیٰ کا خوف ہو اپنی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے انجام کو سامنے دیکھتے ہوئے خوف زدہ ہو جاتا ہے اور خوف کی یہ حالت پھر اسے مجبور کرتی ہے کہ خالص ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور اس کا قرب چاہے۔