سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 244
244 سبیل الرشاد جلد چہارم بڑھ رہی ہوگی وہاں جماعت کی عمومی روحانی حالت میں بھی ترقی ہوگی۔معاشرہ میں، احمدی معاشرہ میں، خاص طور پر امن، پیار اور حقوق کی ادائیگی کا ایک خاص رنگ پیدا ہورہاہوگا۔عہد یداران کے نمونوں سے افراد جماعت بھی اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک سے دوسرے کو جاگ لگتی ہے اور اگر کسی کے نمونے سے دوسرے میں پاک تبدیلی پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی اتنا ہی ثواب دیتا ہے جتنا اس شخص کومل رہا ہے جس نے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کی ہے۔پس اس طرف خاص طور پر توجہ دیں۔کسی کا علم کسی کا صائب الرائے ہونا، کسی کی انتظامی صلاحیت میں اعلیٰ مقام حاصل کرنا، نہ اس کو بحیثیت احمدی کوئی فائدہ دے سکتا ہے، نہ جماعت کو ایسے شخص کے علم ، عقل اور دوسری صلاحیتوں سے کوئی دیر پا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا خوف اور خالص ہو کر اس کی عبادت کی طرف توجہ پیدا نہ ہو تو یہ سب چیزیں فضول ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقام کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جن کی توقعات ہم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہیں" (خطبات مسرور جلد 7 صفحہ 294) سب سے پہلا اور اہم تقاضا انصار اللہ بننے کا عبادت کے معیار کو قائم کرنا ہے انصار اللہ کا اہم کام خلافت سے وابستگی اور اس کے استحکام کی کوشش کرنا ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجلس انصار اللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع سے مورخہ 14 اکتوبر 2009 ء کو خطاب کرتے ہوئے تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔" جماعتی ذیلی تنظیموں کے نظام میں انصار اللہ کی تنظیم ایک ایسی تنظیم ہے جس کے ممبران اپنی عمر کے لحاظ سے عمر کے اُس حصہ میں پہنچ جاتے ہیں جہاں مکمل طور پر بالغ سوچ ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہئے۔اس عمر میں انسان ہر کام سوچ کر اور جذبات سے بالا ہو کر اور ہوش و حواس میں کرتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو ارذل العمر کو پہنچ جاتے ہیں اور پھر اُن کی یاد داشتوں اور اعضاء میں اتنی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے کہ گویا وہ بچپن کی عمر میں واپس لوٹ جاتے ہیں اور پیغام رسانی والے پیغام نے یہ مسیح لکھا ہے کہ آخر میں سب کچھ ذہن کھا جاتا ہے اور نہ ذہن رہتا ہے اور نہ ہڈیاں رہتی ہیں۔انصار اللہ میں انسان چالیس سال کی عمر میں داخل ہوتا ہے اور ایک بڑا المبا عرصہ کام کرنے کی بھی اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کی بھی توفیق ملتی ہے۔اس عمر میں وہ اپنی دنیوی امور کی معراج کو بھی حاصل کرتا ہے اور روحانی امور کی معراج کو بھی حاصل کرتا ہے اور کر سکتا ہے۔اس بلوغت کی سوچ کی عمر اور تجربہ کار انسان کو بچوں اور نو جوانوں کی طرح نصیحت تو نہیں کی جاسکتی۔ہاں یاد دہانی کروائی جاسکتی ہے۔گو یاد دہانی بھی نصیحت کی ہی ایک قسم ہے اور اُس کا ایک رنگ ہے لیکن یہ نصیحت اس قسم کی ہے کہ جو انصار کو اس لحاظ سے