سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 246
246 سبیل الرشاد جلد چہارم گزشتہ دنوں ہم رمضان کے مہینے سے گزرے ہیں۔امید کرتا ہوں کہ کمزوروں میں بھی ان دنوں میں ایک خاص تبدیلی پیدا ہوئی ہوگی اور نمازوں کی طرف توجہ ہوئی ہوگی۔اور جیسا کہ مساجد کی حاضری سے ثابت ہے کہ توجہ ہوئی ہے۔پس اس توجہ کو اگر انصار سو فیصدی اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو ایک عظیم الشان پاک تبدیلی ہمیں جماعت کے اندر نظر آئے گی جس کے اثرات نہ صرف ہم اپنے اندر محسوس کر رہے ہوں گے بلکہ اپنے بیوی بچوں میں بھی محسوس کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے جب نماز پڑھنے کا حکم فرمایا تو یہ بھی اعلان فرمایا کہ اس ذریعہ سے ایک پاک انقلاب تمہارے اندر پیدا ہوگا۔لوگ پوچھتے ہیں کہ کوئی دعا یاذ کر بتائیں جس سے ہمارے اندر پاک تبدیلی پیدا ہو اور وہ پاک تبدیلی اگر پیدا ہو جائے تو پھر قائم بھی رہے۔سب سے بڑی دعا اور سب سے بڑا ذ کر نماز ہی ہے بشر طیکہ اس کا حق ادا کرتے ہوئے وہ ادا کی جائے۔اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز عبادت کا مغز ہے۔پس جس کو مغزمل جائے جس میں تمام قسم کی دعا ئیں آجاتی ہیں اور نہ صرف دعائیں آجاتی ہیں بلکہ انسان کی ہر طرح کی عاجزی اور انکساری اور کم مائیگی اور تضرع کی وہ حالتیں بھی آجاتی ہیں جس سے ایک مومن خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والا بن سکتا ہے تو اُس کو کسی دوسری قسم کے اذکار اور دعاؤں کی کیا ضرورت ہے؟ پس جب انصار اللہ کا نام اپنے ساتھ لگایا ہے تو سب سے پہلا اور بڑا اور اہم تقاضا انصار اللہ بننے کا یہی ہے کہ اس کی عبادت کے معیار قائم کئے جائیں۔جیسا کہ میں نے کہا انصار اللہ نے اپنے تعلق باللہ کے ساتھ ساتھ نو جوانوں اور بچوں کے لئے بھی نمونہ بننا ہے اور اگر انصار اللہ میں نمازوں کے بارے میں ستیاں ہوتی رہیں یا ان میں سے ایک بڑا حصہ ستی دکھاتا رہے یا اگر اکثریت نہ سہی مگر ایک حصہ ستی دکھا تا رہے تو جہاں وہ نماز کے اہم فریضہ پر توجہ نہ دے کر اپنے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں کمی کر رہے ہوں گے وہاں وہ ایک مذہبی فریضہ پر پوری طرح عمل نہ کر کے ایک ایسا جرم کر رہے ہوں گے جو مذہبی جرم ہے۔نماز ایک ایسا اہم فریضہ ہے جس کا ادا کرنا بہت ضروری ہے کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بعد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد نماز کے فریضہ کو اسلام کے سب سے اہم رکن کے طور پر رکھا گیا ہے۔گویا کلمہ طیبہ مسلمان ہونے کا زبانی اقرار ہے اور نماز اس کی عملی تصویر ہے۔پس جب تک عمل نہ ہو زبانی دعوے کر کے ایک انسان مجرم بنتا ہے۔ایک ملکی قانون کو تو انسان مان لیتا ہے لیکن اگر عمل اس کے الٹ کرے تو کیا یہ لکی قانون توڑنے والا مجرم نہیں کہلائے گا۔یقینا انسان اس سے مجرم بنتا ہے تو اس طرح نماز کی ادائیگی نہ کرنے والا بھی مذہبی مجرم ہے اور پھر جب بچوں کی تربیت کی ذمہ داری بھی انصار پر ڈالی گئی ہے تو ان کے سامنے نیک نمونے قائم نہ کر کے اور پھر اس امانت کا حق ادا نہ کر