سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 56
56 لگائے بیٹھا ہے اور جس طرف ان کے لب ہلتے ہے اسی طرف اس کے لب ملنے لگ جاتے ہیں تو ایک بہت بڑی عالمی سازش کا شکار ہے جماعت احمد یہ تم لوگ کیا حرکتیں کر رہے ہو نہیں کرنے دیتے نہ کرنے دیں کوئی پرواہ نہ کرو دیکھو آگے کیا کرتے ہیں اور کس طرح آگے بڑھتے ہیں؟ پھر اجتماعات پر انہوں نے پابندی لگادی وہی نظر آ رہا تھا کہ یہاں سے شروع کریں گے۔سیڑھیاں جس طرح انسان چڑھتا ہے ایک دو تین چاراس طرح اوپر تک پہنچنے لگیں گے۔پھر جلسہ سالانہ ان کے لئے خطرہ بن گیا اور اس قدر شور مچایا گیا سارے ملک میں کہ گویا اگر یہ بات حکومت نے نہ مانی تو حکومت تباہ ہو جائے گی۔جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ کی اہمیت جلسہ سالانہ اتنا بڑا واقعہ جماعت احمدیہ کا کیا حق ہے کہ جلسہ سالانہ کرے؟ چنانچہ جلسہ سالانہ ختم کر دیا گیا اور آج یہ ہمارا اختتامی خطاب ہونا تھا جلسہ سالانہ پر۔آج اٹھائیس ہے اور 26-27-28 کو اختتامی تقریب ہوا کرتی تھی جس میں قرآن کے معارف بیان ہوتے تھے،اسلام کی خوبیاں بیان ہوتی تھیں، غیر مذاہب پر اسلام کی فوقیت بیان ہوتی تھی۔یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایسی باتیں ہوں ،جلسہ سالانہ پر اس کے مقابل پر کیا برداشت کر سکتے ہیں ربوہ کی مساجد جن میں لاؤڈ سپیکر کھلے ہیں یعنی مولویوں کی مساجد اس میں ایسی فحش کلامی ہوتی ہے جمعہ کے دن کہ آپ تصور نہیں کر سکتے کہ اس سے ربوہ کے رہنے والوں کا حال کیا ہوتا ہے؟ شدید گندی زبان استعمال کی جاتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف، جماعت احمدیہ کے سربراہوں کے خلاف، خلفاء کے خلاف بزرگوں کے خلاف اور اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ تعجب ہوتا ہے کہ اسلام کا نام لینے والے ، اسلام کی طرف منسوب ہونے والے جھوٹ اتنا بول کیسے سکتے ہیں؟ گھر بیٹھے کہانیاں گھڑتے رہتے ہیں اور فخر سے بتاتے ہیں بعد میں مولوی اپنے ساتھیوں کو کہ دیکھا کس شان کا میں نے جھوٹ گھڑا ہے! یہ میں نے گھڑا تھا، کسی اور نے مجھے نہیں بتایا، یہ میرا دماغ چلا ہے اس طرف سارے جانتے ہیں اور اُن کے ماننے والے بھی جانتے ہیں اور سارا ماحول جانتا ہے ، حکومت جانتی ہے کہ محض گند یہ منہ مار رہے ہیں۔لیکن جب حکومت خود جھوٹی ہو ، بد کردار ہو چکی ہو، خود مذہب کے نام سے کھیل رہی ہو تو پھر ان لوگوں سے ان کا دل بڑا لگتا ہے۔اس قسم کے لوگ قصر شاہی تک دسترس رکھتے ہیں ، وہاں تک رسائی ہو جاتی ہے ان کی ان کے ساتھ باقاعدہ مل کر منصوبے بنائے جاتے ہیں۔یہ حال ہو چکا ہے اس ملک کا اور اس حال میں صرف احمدی نہیں پیسا جارہا آپ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ سارا ملک پیسا جا رہا ہے۔جن حقوق سے انہوں نے آپ کو محروم کیا ہے باقی قوم کو کب وہ حقوق دیتے ہیں ؟ امر واقعہ یہ ہے کہ جس دن سے جماعت احمدیہ کو ووٹ کے حق سے محروم کیا ہے سارا ملک ووٹ کے حق سے محروم ہے۔جب جماعت احمدیہ پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ تم نے اپنے دفاع میں کچھ نہیں کہنا ہم