سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 55

55 مجروح ہوں گے اور پھر پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔پھر کھیلوں سے یہ آگے بڑھے اور اجتماعات پر ہاتھ ڈالنے شروع کئے کہ لجنہ اماءاللہ کا اجتماع ہوا تو عالم اسلام پر تباہی آجائے گی ، خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہوا تو پتہ نہیں کیا خوفناک حالات دُنیا میں پیدا ہو جائیں گے جس کے نتیجہ میں اسلام نعوذ باللہ من ذلک تباہ ہو جائے گا۔بوڑھوں کا اجتماع ہوا تو اس سے ان کو خطرات وابستہ نظر آنے لگے کہ اس اجتماع سے بھی یا وطن ہلاک ہو جائے گا تباہ ہو جائے گا یا عالم اسلام کو نقصان پہنچے گا۔یہ فرضی قصے پہلے حکومت کے منشاء کے مطابق حکومت سے سمجھوتے کے مطابق علما ء ایک دم جس طرح برسات میں مینڈک بولنے لگ جاتے ہیں سارے پاکستان میں وہ علماء کا ٹولہ جو حکومت کے ہاتھ میں اس وقت کھیل رہا ہے آلہ کار بنا ہوا ہے وہ ایک دم یہی راگ الاپنے لگ جاتا تھا اور کسی کو شرم نہیں آتی تھی کسی کو حیاء نہیں تھا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں کہ اطفال کے اجتماع سے دنیا تباہ ہو جائے گی۔مستورات کے لجنہ کے اجتماع سے عالم اسلام ہلاک ہو جائے گا یہ کیا با تیں کر رہیں ہیں۔لیکن جب شرم اور حیاء اور تمام اعلیٰ اقدار ختم ہو چکی ہوں، جب ذہنی قو تیں مفلوج ہو جائیں، جب حیاء ہی باقی نہ رہے تو پھر انسان ہر قسم کی حرکت کر سکتا ہے۔چنانچہ آپ پاکستان کے اخبارات کا مطالعہ کر کے دیکھیں آپ کو ہر موقع پر اچانک اسی قسم کی خبر میں نظر آئی لگ جائیں گی یعنی ایک صبح کو اُٹھیں گے آپ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تمام پاکستان میں ایک خاص طبقہ علماء ایک دم یہ شور مچانے لگ گیا ہے کہ انصار اللہ کا اجتماع نہیں ہوسکتا اور نہ عالم اسلام کو خطرہ ہے۔پھر اچانک علماء کو خیال آتا ہے کہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع نہیں ہو سکتا ور نہ عالم اسلام کو خطرہ ہے، کبڈی نہیں ہوسکتی ورنہ عالم اسلام کو خطرہ ہے، باسکٹ بال نہیں ہو سکتا ورنہ عالم اسلام کو خطرہ ہے۔تو یہ جو سر والا پتے تھے سارے آخر اس کی مرکزی جڑیں تھیں وہاں سے آواز نکلتی تھی تو یہ سب تک پہنچتی تھی اور پھر حکومت کے اخبار تھے۔حکومت کے ٹیلی ویثرن اور حکومت کے ریڈیو یہ ساری باتیں اُچھالتے تھے کہ علماء یہ کہہ رہے ہیں تا کہ نفسیاتی طور پر قوم پر یہ اثر پیدا ہو کہ ہاں ایک بہت ہی خطرناک بات ہونے لگی ہے اور حکومت مجبور ہورہی ہے گویا کہ ان لوگوں کی آواز کے سامنے سر جھکانے پر حالانکہ حکومت کی طرف سے یہ باتیں پیدا کی جاتی تھیں اور ہمارے علم میں تھا یہ سب کچھ تو بعض لاعلم بیچارے جب کھیلوں پر پابندی شروع ہوئی تو بعض ہمارے کھلاڑی شوقین بڑے زور کے ساتھ حرکت میں آگئے کہ ہم ڈی سی کے پاس جائیں گے۔ہم کمشنر سے ملیں گے۔ایک صاحب تو جوش میں آکر اسلام آباد پہنچ گئے مرکزی حکومت کو جھنجھوڑنے کیلئے اور سیکریڑی تعلیم سے ملے بھی۔مجھے علم ہوا تو میں ناراض ہوا ان پر۔میں نے ان بلایا، میں نے کہا تم کر کیا رہے ہو؟ تمہیں پتہ ہی نہیں کہ کیا واقعات گزرر ہے ہیں کیوں گزر رہے ہیں۔ان افسروں کے بیچاروں کے قبضہ میں ہے ہی کچھ نہیں یہ تو His Masters Voice ہیں گوش بر آواز آقا ہیں اور جوان کا آتا ہے وہ خود غلام ہے غیر طاقتوں کا ، وہ ان کی آواز پر کان