سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 448
448 امیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جسے کچھا مر سونیا گیا ہے وہ اپنے ماتحتوں سے محبت ، شفقت کا سلوک کرے (خطبہ جمعہ 21 جون 1996ء) " پس یہ وہ مضمون ہے جو ہر صاحب امر کے لئے سمجھنا ضروری ہے وہ جب کسی سے پیار کرتا ہے اپنے ماتحتوں پر جھکتا ہے تو اس کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی نہیں آنا چاہئے کہ میں ان پر اس لئے جھک رہا ہوں کہ یہ میری تائید کرنے والے لوگ ہیں۔اس لئے جھک رہا ہوں کہ یہ میرا عشیرہ ہے، میرے اقر بین ہیں کیونکہ اقربین سے تو بات شروع ہوئی تھی۔فرمایا ان کو تو ڈرادے تو مانیں گے حق پر چلیں گے حق پر قائم رہیں گے تو پھر تیری رحمت ان پر ہوگی ورنہ تیرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔پس وہ امیر جو اس وجہ سے بعض لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں کہ وہ ان کے زیادہ قریب ہیں ان کے حق میں باتیں کرنے والے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ جو بھی میں کہوں گا اس کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوں گے وہ جانتے نہیں کہ توحید کے مضمون کے یہ بات خلاف ہے۔اور جو بات بھی توحید کے برخلاف ہو وہ خدا تعالیٰ کے نظام میں کہیں بھی کوئی مقام نہیں رکھتی۔وہ نظام اللہ نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں ہر پہلو کا توحید سے تعلق ہے۔پس باریک راہیں ہیں مگر ان باریک راہوں کا اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ جماعت کے تقویٰ کی زندگی ان راہوں سے وابستہ ہوچکی ہے۔ان راہوں کو چھوڑ دیں گے تو آپ بھی کبھی نیک انجام نہیں ہو سکتے ، آپ کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔پس ہرا میر کے لئے ہر آیات سے میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتا ہوں لازم ہے کہ جھکے اور رحمت کے ساتھ سب لوگوں سے انکساری کے ساتھ ، بجز کے ساتھ تعلق قائم کرے۔اپنے مرتبے کا خیال نہ کرے۔اس کا مرتبہ بڑا ہے تو محض اس لئے کہ خدا نے اسے ایک مقام پر فائز کیا ہے۔مگر جس مقام پر فائز کیا ہے اس مقام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ خود نیچے اتر آئے۔اب یہ خود نیچے اترنے والا مضمون ہے۔یہ واخفض جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ“ سے نکلتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ان پر خوب روشنی ڈال رہی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روایات اور کثرت سے روایات بتاتی ہیں کہ آپ مومنوں کے لئے ایسی شفقت رکھتے تھے اور ایسے منکسر المزاج تھے کہ اگر رستہ چلتے کسی عورت نے بھی آواز دی تو کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔پوری توجہ سے اس کی بات سنتے تھے۔ایک غلام اور بے حیثیت آدمی کبھی آپ کو مدد کے لئے کہتا تھا تو اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا کرتے تھے۔ایک یتیم بچہ کبھی آپ کو بلاتا تھا تو آپ اس کے ساتھ روانہ ہو جایا کرتے تھے۔حیرت انگیز وجود تھا جس کی نہ رفعتیں ہماری پہنچ میں ہیں نہ اس کی خدا کے حضور پستیاں ہماری پہنچ میں ہیں۔دونوں طرف کے کنارے ہماری عقل کے دائرے سے باہر ہیں۔