سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 449 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 449

449 لیکن وہ ایسا ہی تھا جس کو خدا نے ساتویں آسمان سے بھی بلند کر دیا۔جب وہ جھکا تو ان لوگوں پر جھک گیا جو پستیوں کی انتہا تک پہنچے ہوئے تھے۔مومنوں پر بھی جھکا اور غیروں پر بھی جھکا۔لیکن مومنوں کے متعلق تو اس کے دل کی کیفیت ہی اور تھی۔یہ وہ حقیقت ہے جو مصطفوی حقیقت ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی جان ہے۔پس اس پہلو سے ہرا میر کا کام ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں سے نرمی اور محبت اور بجز کا سلوک کرے اور ان کی خاطر نہیں بلکہ محض اللہ کی خاطر۔ان کی خاطر تو کرے گا مگر ان کی خاطر خدا کی خاطر۔اب یہ ایک اور سلسلہ بیچ میں داخل ہو جاتا ہے۔بندوں سے پیار ہے بندوں کی خاطر مگر بندوں سے بندوں کی خاطر جو پیار ہے اس کا آغاز اللہ کے پیار سے ہوا۔اور یہ وہ مضمون ہے جسے قرآن کریم کی ایک اور آیت بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی که محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان وجود ہیں دنی“ وہ خدا کی طرف بڑھا اور اتنا قریب ہو گیا کہ اس سے زیادہ قرب الہی ممکن نہیں رہا۔اتنے قرب کے باوجود وہ ٹھہر نہیں گیا۔فتدلی“ پھر وہ نیچے اترا اور بنی نوع انسان کو اس قرب ، اس عظیم ذات کے لئے بلانے کے لئے نیچے اترا۔وہ عظمتیں اور رفعتیں جو اس نے اپنے رب سے حاصل کیں اپنے آپ تک محدود نہیں رکھیں بلکہ اس کی خاطر اس کے بندوں میں تقسیم کرنے کے لئے وہ رحمتیں بانٹنے کے لئے نیچے اترا اور اس کی مثال ایسی ہوگئی "كَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى جیسے دو قوسیں ہوں یعنی کمانیں جن کا ایک ہی وتر ہو ، ان کے درمیان ایک ہی تنی ہو۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کما نہیں کس شکل کی ہو سکتی ہیں؟ عام طور پر اس کی جوشکل بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف کمان نیچے سے آرہی ہے اوپر کی طرف ایک اوپر سے کمان اتری ہے اللہ کی محبت کی اور بیچ میں ایک ہی وتر ہے۔وہ تنی ایک ہی ہے۔یہ مضمون بھی بہت باریک اور لطیف ہے لیکن میں جو سمجھتا ہوں وہ اس سے مختلف ہے۔اس کو غلط نہیں سمجھتا کیونکہ قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں۔مگر میرے نزدیک ان دونوں کمانوں کا رخ ایک ہی طرف ہے۔یعنی ان کا جو بیچ کا دھاگہ یاتنی ہے اس سے ایک کمان محمد رسول اللہ کی کمان اور ایک خدا کی کمان ہے وہ اس طرح ایک سمت میں ہیں کہ ناممکن ہے کہ محمد رسول اللہ کی کمان چلے اور خدا کی کمان میں حرکت نہ آئے۔ناممکن ہے کہ اللہ کی کمان کو کھینچا جائے اور وہ پہلی کمان اس کے ساتھ حرکت میں نہ آئے کیونکہ دونوں کا ایک ایسا گہرا اٹوٹ رشتہ قائم ہو چکا ہے کہ جب ایک کو کھینچا جائے دوسری کھینچ جاتی ہے جب دوسری کو کھینچا جائے تو پہلی کھینچ جاتی ہے اور اس تنی سے جو تیر نکلتا ہے وہ بیک وقت محمد رسول اللہ کی طرف سے نکلا ہوا تیر بھی ہوتا ہے اور اللہ کی طرف سے نکلا ہوا تیر بھی ہوتا ہے۔اس تفسیر کی تائید کرنے والی میرے نزدیک وہ آیت کریمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَ اللَّهَ رَمَى اگر کمانوں کو بر عکس سمت میں رکھا جائے تو وہ دونوں کا چلایا ہوا