سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 447
447 سے گزرا ہوا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ یہ کوششیں ہوتی ہیں اور مہلک ہوتی ہیں۔اور جو لوگ پھر قریبی بن جائیں،مصاحب بن کے رہیں جماعت میں ، وہ سارے تقویٰ کا نظام بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔کیونکہ پھر لوگوں کی نظر اللہ پر نہیں بلکہ ان کو خوش کرنے پر ہوتی ہے۔یہ کوئی معمولی مصیبت نہیں ہے یہ تو ایک عذاب ہے جو امیر یا عہدیدار سہیڑ لے گا اگر وہ لوگوں کی باتوں میں آئے اور لوگوں کی باتیں سنے۔یہ درست ہے کہ اگر نہ بھی سنیں گے تو الزام تو لگنے ہی ہیں جیسا کہ میں نے اپنے متعلق بتایا ہے الزام لگانے والے نے لگا دیا۔مگر اس الزام تراشی سے تو محمد رسول اللہ کو بھی الگ نہیں رکھا گیا، میری کیا حیثیت ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی لوگ بد تمیزی سے زبانیں دراز کرتے ہیں اذن ہے یہ تو۔یہ تو کان ہے لوگوں کی باتیں سنتا ، ان پر عمل کرتا۔فرمایا ” اذن خیر لکم اذن تو ہے مگر اچھی باتوں کا اذن ہے۔جہاں تمہاری بھلائی دیکھتا ہے اس کا کان جھک جاتا ہے اس طرف قبول کر لیتا ہے۔جہاں برائی کا سوال ہے وہاں سوال ہی نہیں، ہرگز ممکن نہیں کہ آپ اس رسول کو اذن “ کہہ سکیں کسی پہلو سے بھی۔ہر بات کی تحقیق کرتا ہے، جائزہ لیتا ہے، انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے، پھر تسلیم کرتا ہے ورنہ سنی سنائی باتوں کو نہیں مانتا۔تو خیر کے حق میں سنی سنائی بھی قبول کر لیتا ہے۔جہاں بھلائی پہنچنی ہو وہاں ضروری نہیں کہ پہلے سو فیصدی ثابت ہو جائے کہ اتنا اچھا ہے اس لئے اس کو انعام دیا جائے۔کسی نے اچھا کہا تو انعام کے لئے طبیعت کھل گئی اور انعام کا سلسلہ جاری بھی ہوگیا۔یہ اذن خیر ہے۔کسی نے کسی کی بھلائی کی اچھی بات کہی تو فور ادل پر قبول کر لیا کیونکہ اس سے پہلے ہی محبت ہے اور تعلق ہے۔یہ نظام جو ہے اذن کا یہ ثبت اور منفی دونوں صورتوں میں انسانی زندگی میں جاری ہے۔تو بعض لوگ اُذُنْ سَيِّئَة ہوتے ہیں أُذُنٌ خَیر کی بجائے۔یعنی برائی کے کان ہو جاتے ہیں اور بھلائی کے کان نہیں رہتے۔ایسے لوگوں کو پھر جتنی بھی آپ برائیاں پہنچائیں گے وہ قبول کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ برائی کی بات سننا ان کا چسکا بن جاتا ہے اور اس عادت نے محض نظام پر بعض دفعہ برے اثر نہیں ڈالے بلکہ اکثر گھروں کے امن کی تباہی کی یہی وجہ بنتی ہے۔اگر گھر کے بڑے، خاوند یا بیوی یا ساس یا سر یا ماں باپ جس حیثیت سے بھی آپ ان کو دیکھیں ان کے اندر یہ عادت ہو کہ برائی سنیں اور اسے قبول کریں اور اسے قبول کرنے میں لطف اٹھا ئیں اور یہ سمجھیں کہ اب ہمیں فلاں کے خلاف ایک بات ہاتھ آگئی ہے۔یہ جو ہاتھ آنے والا مسئلہ ہے اور یہ مزہ کہ ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ فلاں میں کیا برائی ہے یہی انسانی زندگی میں ایک تباہی مچادیتی ہے انسانی زندگی کا امن لوٹ لیتی ہے۔مگر نظام جماعت میں تو اگر داخل ہوگی تو اس کے بہت ہی بداثر پیدا ہوں گے اور دیر تک ، دور تک اس کے اثرات جائیں گے۔اس لئے ہم نے اگر نظام جماعت کی حفاظت کرنی ہے تو ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔" الفضل انٹرنیشنل 26 جولا ئی 1996ء)