سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 434

434 سے بہت ہی پسماندہ اور محتاج تھے ، ایسی جماعتوں سے آئے تھے جہاں لمبے عرصے سے ان کی تربیت نہیں کی گئی یا کی گئی تو انہوں نے اس کو رد کر دیا، جب داعی الی اللہ بنے ہیں تو ان کی کایا ہی پلٹ گئی ہے خدا کے فضل سے۔اپنے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں جن پر ان کی نظر ہے پھر ان کے لئے بھی کرتے ہیں جو ان کی جھولی میں پھل کے طور پر گرادئے گئے۔پس بہت ہی قابل فکر بات ہے جماعت کینیڈا کو اس میں خاص توجہ دینی چاہئے۔انصاراللہ کے بعد اگلی زندگی کا سفر ہے اور انصار اللہ کی تو عمرایسی ہے کہ اب اس کے بعد پھر دوسری دنیا کا سفر ہی ہے نا۔اکا دکا تو اطفال بھی اٹھ جاتے ہیں اور خدام بھی اٹھ جاتے ہیں۔مگر بطور جماعت کے انصار کے پر لی طرف کوئی اور جماعت نہیں ہے جس میں شامل ہو جائیں گے۔اطفال کی جماعت بڑی ہوتی ہے، خدام میں داخل ہو جاتی ہے۔ناصرات کی جماعت بڑی ہوتی ہے لجنہ میں چلی جاتی ہے۔خدام کی جماعت بڑی ہوتی ہے انصار اللہ میں داخل ہو جاتی ہے۔انصار کی جماعت ہزار سال کی بھی ہوگی تو اگلی دنیا میں جائے گی۔تو بحیثیت جماعت ان کا انجام دوسری دنیا کے سفر میں ہے۔تو جہاں دوسری دنیا کا سفر بالکل صاف سر پر کھڑا دکھائی دے رہا ہو، وہ سٹیشن ہی وہی ہے جہاں آگے گاڑی ٹھہرنی ہے، تو پھر اور زیادہ فکر کی ضرورت ہے۔ایسے وقت میں تو انسان کو اگر ساری عمر میں کچھ نہیں بھی کیا تو کوشش کرنی چاہئے کہ کچھ اتنی کمائی کرلے کہ خدا کے حضور حاضر ہو تو کچھ پیش تو کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرماتے ہیں اے بے خبر بخدمت فرقاں کمر به بند زاں پیشتر که بانگ برآید فلاں نماند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شعر ہے یا کسی اور کا۔مجھے اس وقت قطعی طور پر تو یاد نہیں مگر میرے ذہن پر تو یہی تاثر تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام ہی کا شعر ہے۔مگر شعر کا مضمون تو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کا ہے اس میں قطعی شک کوئی نہیں کہ اے بے خبر قرآن کی خدمت پر اپنی کمرکس لئے ” زاں پیشتر اس وقت سے پہلے کہ بانگ برآید کی آواز سنائی دے، ایک آواز بلند ہو ” فلاں نماند وہ نہیں رہا، وہ نہیں رہا یعنی اس دنیا سے اٹھ گیا ہے۔تو انصار اللہ کی عمر تو یہ یہ بانگیں سنے کی عمر آ گئی ہے جو ان کے جانے کے بعد دوسروں کو سنائی دے گی۔مگر اگر اچھے کام یہاں کر لیں گے، خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے محنت کریں گے، کچھ زادراہ بنالیں گے تو آسمان سے بھی تو ایک بانگ اٹھے گی جہاں اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گایا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّة اے میرے مطمئن نفس یعنی میری