سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 435
435 ذات سے مطمئن ہونے والے پیارے آجا، لوٹ کے میری طرف آجا رَاضِيَةً مَرْضِيَّة “ تو مجھ سے راضی ہے میں تجھ سے راضی ہوں۔تو دو قسم کی بانگیں ہیں جو بہر حال انجام کے وقت سنائی دیتی ہیں۔ایک جانے والوں کے لئے پیچھے اٹھتی ہے اور ایک جانے والوں کے استقبال میں آسمان سے اترے گی۔تو اس آواز کے لئے کیوں اپنے آپ کو تیار نہیں کرتے۔اور ایسا تیار کریں کہ جن کو آپ اپنی دعوت الی اللہ کے نتیجے میں خدا کا قرب عطا کرنے میں ایک بہانہ بن چکے ہوں وہ آج کی یاد میں ہمیشہ آپ کو دعائیں دینے لگیں۔محض فلاں نماند کی آواز میں نہ اٹھیں بلکہ یہ آواز میں اٹھیں کہ کاش وہ رہتا اور ہم چلے جاتے۔وہ ایسا پاک وجود تھا کہ اس کے جانے سے خلا پیدا ہو گیا ہے۔تمام دنیا کے انصار کے لئے پیغام پس انصار اللہ خواہ کینیڈا کے ہوں خواہ دنیا میں کسی جگہ کے ہوں ان کو خصوصیت کے ساتھ اس اپنی حیثیت کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ بحیثیت جماعت وہ ایک مرنے والی جماعت ہے یعنی مادی طور پر مرنے والی مگر اس طرح مریں کہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو چکے ہوں تو تب ان پر موت آئے۔مر کے جانا یعنی ہمیشہ کی موت کو قبول کر لینا یہ کوئی شعور کی بات نہیں، عقل کی بات ہے، یہ بہت نقصان کا گھاٹے کا سودا ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ انصار اللہ دنیا میں ہر جگہ میرے اس پیغام کو غور سے سنیں گے، سمجھیں گے اور اپنے اندر اور اپنے میں سے جو کمز ور تر ہیں ان کے اندر نئی زندگی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔دعوت الی اللہ کی اہمیت اور سب سے اچھا زندگی پیدا کرنے کا ذریعہ دعوت الی اللہ ہے۔دعوت الی اللہ کام ایسا ہے کہ جو دونوں طرف نفع بخش ہے۔جو بلاتا ہے اس کو بھی زندہ کرتا ہے، جس کو بلایا جاتا ہے وہ بھی زندہ ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ سب سے زیادہ زندہ کے سپرد یہ کام کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے متعلق فرمایا کہ یہ بلانے والا جب بلائے تا کہ تمہیں زندہ کرے تو اس کی آواز پر لبیک کہا کرو۔پس زندگی یعنی روحانی زندگی ایک ایسی عظیم چیز ہے کہ جب یہ عطا کی جاتی ہے تو جس کو عطا کی جاتی ہے اس کی طرف سے عطا کرنے والے کو بھی ایک فیض ملتا ہے، وہ اور بھی زیادہ زندہ ہو جاتا ہے، اور جو زندہ ہو وہی زندگی بخش سکتا ہے غیر زندہ کو توفیق نہیں ملتی۔پس وہ لوگ جو محنت کرتے ہیں اور پھل نہیں پاتے جب وہ دعائیں کرتے ہیں،فکر کرتے ہیں