سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 433
433 تصویر ان کی ذات میں زندہ ہوگئی ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں احمدیت کے خلاف مظالم کی حد ہوگئی اور تبلیغ کی راہ میں ہر ممکن روک کھڑی کر دی گئی وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی شعر صادق آ رہا ہے کہ ؎ بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں تو وہ کینیڈا کا بوستاں کیوں سب سے الگ ہے۔یہ قابل فکر بات ہے۔ان کو اس طرف سنجیدگی سے توجہ کرنی چاہئے۔اگر ایک صحت مند وجود میں ایک چھوٹا سا بھی نقص ہو تو وہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔اس لئے اگر دوسرے پہلوؤں سے بے چاری کمزور ، مری پٹی جماعت ہوتی تو شاید یہ بات اتنی نمایاں دکھائی نہ دیتی۔کیونکہ بعض جھاڑ ایسے ہیں، بعض درخت ایسے ہیں بہار کے موسم میں بھی جن کا رنگ زرد ہی ہوتا ہے بے چاروں کا۔اور اس کو اردو میں اس طرح مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ کسی نے پوچھا میاں روتے کیوں ہو تو اس نے کہا میری شکل ہی ایسی ہے۔بعض بے چارے پودوں کی شکل ہی خزاں رسیدہ ہوتی ہے۔اگر ایسی بات ہوتی تو میں نمایاں طور پر محسوس نہ کرتا۔ان کی شکل تو ایسی نہیں جیسا وہ بن کے دکھا رہے ہیں۔ہاں بعض جماعتوں میں جہاں آغاز ہے تربیت کا ابھی پوری طرح بیداری نہیں ہوئی وہاں ہر طرف زردی کے آثار ہیں مگر یہاں سبزی کے بیج میں زردی بہت ہی بری دکھائی دیتی ہے۔ایسا داغ ہے جو اور زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔اس لئے میں جماعت کینیڈا کو اور مجلس انصار اللہ کو خصوصیت سے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ کچھ ہوش کرین اگر جلدی اس بیماری کو دور نہ کیا تو یہ بیماریاں پھر پھیلنے لگتی ہیں۔اور خاص طور پر ایسے موسم میں جب سب دنیا کے مزاج سے الگ ایک مزاج بنالیا گیا ہو تو اس وقت یہ بیماری بعض دوسری خوبیوں کو بھی کھا جاتی ہے اس لئے فکر کرنی چاہئے۔جلد از جلد اپنی صحت کی طرف توجہ دیں۔ایک دو کی بحث نہیں ساری جماعت کو تبلیغ کے میدان میں جھونک دینے کا وقت آ گیا ہے۔اور اس کے پھر جو تازہ شیریں پھل ملیں گے وہ ساری جماعت کے لئے زندگی کا موجب بنیں گے۔وہ روحانی لحاظ سے پھل ہیں یعنی ان کو ویسے تو نہیں کھا سکتے آپ۔مگر وہ پھل ایسے ہیں جن کی شرینی کا لطف تو اٹھا سکتے ہیں۔ان کی خوشبو، ان کی لذت سے فیض یاب ہو سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جماعت میں ایک نئی تازگی پیدا ہو جاتی ہے، نیا حوصلہ آتا ہے۔جہاں جہاں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے دعوت الی اللہ کے کام کئے ہیں ان کے مردے بھی جی اٹھے ہیں۔وہ لوگ جن کے متعلق جماعت کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ان میں کوئی روحانی زندگی کے آثار ہیں۔بس سانس زندہ تھے مگر کوئی ایسے آثار نہیں تھے جس سے ان میں حرکت دکھائی دے، ان سے توقعات کی جاسکیں۔مگر جور پورٹیں آتی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں جہاں بھی کوئی داعی الی اللہ بن گیا ہے اس کی کایا پلٹ گئی ہے۔اور یہی حال ہے جرمنی میں خدا کے فضل سے وہ بے چارے جو تربیت کے لحاظ