سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 369

369 سے مغفرت کا بھی وعدہ فرما رہا ہے اور فضل کا وعدہ بھی۔اس تعلق میں فضل کا مطلب یہ ہے کہ جتنا تم کما کر حاصل کرنے کے حقدار بنے ہو تو اس سے زیادہ تمہیں دے گا۔اللہ تعالیٰ جب فضل فرماتا ہے تو عام حالات میں جتنا کمانا ہوتا ہے اس کی توقع سے بڑھ کر تمہیں عطا فرما دیتا ہے۔مغفرت کا مفہوم مغفرت کا تعلق فحشاء سے ہے۔فرمایا جو کچھ کمزوریاں تم سے لاحق ہوگئی ہیں اگر تم خدا کی خاطران سے بچو گے تو خدا مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ان کا نقصان تمہیں نہیں پہنچے گا اور جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرو میں مالوں میں کمی نہیں کروں گا بلکہ اضافہ کروں گا اور یہ ایک گہری حکمت کی بات ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے فقر اور فحشاء کی نسبت اگر آپ غور کریں تو یہ بہت ہی حکمت کا کلام ہے۔اسی طرف اللہ تعالیٰ اس میں توجہ دلاتا ہے کہ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ دیکھو! خدا جس کو چاہے حکمت عطا کرتا ہے۔میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوحکمت کے لئے چن لیا ہے- يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ (الجمع : 3) یہ ان کو تعلیم بھی دیتا ہے اور حکمت بھی بتا تا ہے تو دیکھو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کیسی پیاری پیاری حکمت کی باتیں تم تک پہنچائی جا رہی ہیں۔وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ لیکن ہم جانتے ہیں کہ عقل والوں کے سوا کسی نے نصیحت نہیں پکڑنی۔عقل اور حکمت کا کیا تعلق ہے صاحب عقل ہی حکمت سے فائدہ اٹھایا کرتے ہیں۔جن کو عقل نہ ہو ان کے لئے تو حکمت کی باتیں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔وہ اس سے منہ موڑ کر دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔ایک عقل ہے جو انسان کی اندرونی صفت ہے اور ایک حکمت ہے جو باہر سے پیغام بن کر اس کے ذہن پر یا دل پر اترتی ہے تو فرمایا کہ جس طرح آنکھ اگر روشنی دیکھنے کی اہلیت رکھے تو روشنی اس کو فائدہ پہنچاتی ہے، ایک اندھے کو تو روشنی فائدہ نہیں پہنچایا کرتی ، اس طرح حکمت سے استفادہ کے لئے جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے تمہیں عطا کی جارہی ہے۔تمہارے اندر بھی عقل کا ایک نور ہونا چاہئے۔وہ ہے تو تم حکمت سے فائدہ اٹھاؤ گے۔فرمایا: وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَو نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارِ کہ دیکھو ! تم جو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو یا خرچ نہیں بھی کر سکتے مگر خرچ کی تمنا رکھتے ہو، نذرمان رکھی ہے کہ مجھے توفیق ملے تو میں یہ بھی خدا کی راہ میں خرچ کروں۔اس کی کیا جزاء ہے؟ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ تمہارے