سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 368

368 خاطر روپے کی ضرورت ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ جو قو میں فحشاء میں مبتلا ہوں ان سے مالی قربانی کی توفیق چھین لی جاتی ہے۔فحشاء کا مطلب ہے دنیا کی لذتوں میں حصہ لینے کی دوڑ میں انسان ایسی بدرسمیں اختیار کر جائے جو پھیلنا شروع ہو جائیں جو وبائی رنگ اختیار کر لیں اور کھلم کھلا بدیوں کی دوڑ شروع ہو جائے۔اب آپ دیکھیں کہ جہاں کھلم کھلا بدیوں کی دوڑ ہو وہاں الا ما شاء اللہ ہمیشہ انسان کی کمائی اس کی ضرورتیں پوری کرنے سے پیچھے رہ جاتی ہے۔دل چاہتا ہے کہ میں اس ماڈل کی کارلوں ، دل چاہتا ہے کہ میں اس قسم کے نئے وڈیوز خریدوں۔اس قسم کے عیش و عشرت میں حصہ لوں اور ایسی ایسی سیر میں کروں وغیرہ وغیرہ۔اور شراب و کباب اور ناچ گانے کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے۔جتنا بھی زیادہ ہو اتنا ہی یہ لوگ اس میں مزید مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں۔تو جن قوموں کو یہ نتیں پڑ جائیں اور ان کے ہاں ان باتوں کو زیادہ اہمیت دی جائے ان کے بجٹ ہمیشہ ان کی ضرورت سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔پھر وہاں چوری چکاری ہوتی ہے، ڈاکے ڈالے جاتے ہیں۔Drug Addiction کے ذریعہ Crime بڑھتے ہیں اور ساری سوسائٹی دکھوں میں مبتلا رہتی ہے۔قرض لے لے کر اپنا مستقبل تباہ کرتے ہیں اور اپنے حال کو اچھا بنانے کے لئے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم نے ایک فقرے کے اندر بیان فرمایا ہے کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے لیکن فحشاء کی دعوت دیتا ہے۔کتنی بڑی منافقت ہے، کتنی بڑی شیطانی ہے، جب تم خدا کی راہ میں خرچ کرنے لگتے ہو تو ایک طرف تمہیں فقر سے ڈراتا ہے لیکن دوسری طرف فحشاء کی دعوت دے کر تمہارے فقر کا انتظام کرتا ہے اور اس بات کو پکا کر دیتا ہے کہ تم ہمیشہ اقتصادی لحاظ سے بد سے بدتر حال تک پہنچتے چلے جاؤ۔پس فحشاء اور فقر کا یہ رشتہ قرآن کریم نے حیرت انگیز باریک نظر سے بیان فرمایا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب مالی قربانی کی تحریک فرمائی تو فحشاء کی ہر قسم سے بچنے کی تلقین کے علاوہ زندگی کے جو جائز مزے تھے ان میں بھی کمی کرنے کی تلقین فرمائی۔عورتوں سے کہا زیور پہننا تمہاری ضرورت ہے تمہیں اجازت ہے مگر خدا کی خاطر زیور بنانا اگر کم کر دو اور چندے بڑھا دو تو اور بھی اچھی بات ہے۔امیروں سے کہا کہ تم نعمتیں استعمال کرو مگر خدا کی خاطر اپنے کھانوں میں تکلفات کم کر دو، اپنے کپڑوں میں تکلفات کم کردو، اپنی روز مرہ کی سیر و تفریح میں تکلفات کم کر دو، ہر جگہ سے بچت کرو تا کہ خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے اور جہاں تک خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے کے ساتھ غربت کا خوف ہے اس کی اللہ تعالیٰ نفی فرماتا ہے۔فرماتا ہے شیطان جھوٹ بولتا ہے۔جن باتوں کی شیطان تعلیم دیتا ہے ان میں غربت کا حقیقی خطرہ ہے لیکن خدا جس جگہ خرچ کرنے کی طرف تمہیں بلاتا ہے۔اس میں خدا اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ تم غریب نہیں ہو گے، پہلے سے بہتر حال میں جاؤ گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا الله تم