سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 332
332 بسا اوقات کچھ عرصہ کے بعد ان کی اس Drug Addiction کے بدنتائج ان کو دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔محسوس ہورہے ہوتے ہیں اور بار بار بھنا بھنا کر وہ کوشش کرتے ہیں کہ نجات مل جائے لیکن پوری طرح اس کے غلام بن چکے ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں اگر واقعہ یہ دعا کی جائے کہ اے خدا مجھے نجات بخش دے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا فرمادے کہ اس کی کوشش میں طاقت پیدا ہو جائے۔اس کو ایسے ذرائع میسر آجائیں کہ وہ واقعہ Drug Addiction سے دور ہٹ کر کسی اور طرف رخ اختیار کرے یا واقعہ اس سے وہ ذرائع چھین لئے جائیں جن کے ذریعے وہ Drug Addiction میں مبتلا ہوتا ہے۔دونوں صورتیں ہیں۔دعا کے نتیجہ میں بعض دفعہ ایک بدی پر آمادہ انسان جو بدی پر تیار بیٹھا ہولیکن دل کی آخری گہرائی میں خلوص کی کوئی رمق باقی ہو اور خدا سے یہ دعا کرے کہ اے خدا! میں ارادہ کئے بیٹھا ہوں لیکن دل نہیں چاہتا کہ تیری رضا کے خلاف کوئی لذت حاصل کروں۔اس لئے تو میری مددفر ما اور اس بدی کو مجھ سے ٹال دے تو بسا اوقات ایسا ہوگا کہ خدا تعالیٰ اس کے رستے میں اور گناہ کے رستے میں کوئی طبعی روک پیدا کر دے گا۔چاہتے ہوئے بھی مجبور ہو جائے گا۔پس نیتوں کا خلوص ہے جہاں سے تبتل کا مضمون شروع ہوتا ہے پہلے دل کے تعلقات کو بدیوں سے توڑیں یا توڑنے کا قطعی ارادہ کرلیں پھر اللہ سے دعا مانگیں تو پھر انشاء اللہ تعالٰی آپ کو ہر برائی سے تبتل اختیار کرنے یعنی علیحدگی اختیار کرنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔دنیا کی خواہش حقیقتاً غیر اللہ کی محبت بن جاتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں " جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے" یعنی ہر وقت اس پر دنیا سوار ہے یہ بھی ملے وہ بھی ملے۔اکیلا اس کو غیر اللہ کی محبت نہیں قرار دیا لیکن ساتھ ایک اور علامت بیان فرما دی جس کے نتیجہ میں دنیا کی خواہش حقیقتا غیر اللہ کی محبت بن جاتی ہے فرمایا " اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا" جو شخص دنیا کی خواہش رکھتا ہے کہ جو ایک فطری چیز ہے اور ساتھ آخرت کا مضمون بار بار اس کے سامنے آتا ہے وہ آخرت کا تصور اس کی دنیا کی خواہش کو معتدل کر دیتا ہے۔بعض دفعہ آخرت کا تصور دنیا کی خواہش کو اس حد تک معتدل کر دیتا ہے کہ انسان میں ایک استغناء پیدا ہو جاتا ہے میری خواہش تو ہے کہ یہ چیز مل جائے گناہ نہیں ہے لیکن آخرت کے تصور کے بعد پھر انسان یہ بھی کہتا ہے کہ میری خواہش تو ہے مگر نہ ملے تو کوئی بات نہیں۔اللہ ملے تو بہت ہے اللہ کی رضا چاہئے اگر رضا کے مطابق ہے تو ملے ورنہ نہ ملے۔یہ بھی ایک قسم کا تل ہے۔یعنی دنیا سے تعلق رکھنے کے باوجود بے تعلقی کا ایک ایسا انداز جو انسان کو غنی کر دے، بے پروا