سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 333

333 کر دے، ہو جائے تو ٹھیک ہے نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اللہ راضی رہے یہ وہ مقام ہے جہاں سے پھر خدا کی طرف حرکت مثبت طور پر شروع ہو جاتی ہے پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیسا متوازن بیان فرمایا ہے کہ و شخص جو دنیا کی لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتاوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے، جو شخص در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا۔وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔۔۔" ہر ایسا موقع جہاں دین کا ایک مفاد ہو اور اس کے مقابل پر دنیا کا کوئی مفاد ہو وہاں انسان بار یک نظر سے غور کرے کہ دین کے مفاد کو ترجیح دے گا یا دنیا کے مفاد کو ترجیح دے گا۔یہ بہت ہی مشکل مضمون ہے کیونکہ بڑے بڑے سمجھدار اور بڑے بڑے عالم لوگ بھی اس مضمون پر ضرور ٹھوکر کھا جاتے ہیں کیونکہ ہمیشہ کیلئے ایک گہری نظر کے ساتھ اپنے نفس کے محاسبے کی عادت ڈالنا حقیقت کو پانے کے لئے ضروری ہے۔بعض دفعہ بعض ایسے لوگ جنہوں نے زندگیاں وقف کی ہوئی ہوتی ہیں ان کے افسران کی طرف سے ان سے کوئی سختی کا معاملہ کیا جاتا ہے یا جس جگہ ان کی تقرری ہوئی ہوتی ہے ان کی بے اعتنائی کی وجہ سے وہ دل برداشتہ ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں جب وہ ایسے لوگوں سے نظام کے متعلق باتیں کرتے ہیں جن کا نظام کے ساتھ براہ راست تعلق نہیں ہے وہ اپنے دل کے دکھ ان کے سامنے بیان کرتے ہیں اور اس طرح کچھ تسکین پاتے ہیں۔تو وہ اس وقت یہ نہیں سوچ رہے ہوتے کہ ہم نے دین کو دنیا پر نہیں بلکہ دنیا کودین پر مقدم کر لیا ہے کیونکہ جب کسی شخص کے سامنے ایک ایسی بات بیان کی جائے جس کے نتیجہ میں ان لوگوں کے متعلق بُرا اثر پڑے جو دین کو چلانے پر مامور کئے گئے ہیں تو لازماً اسی حد تک دین سے دل برداشتہ ہو جاتا ہے انسان کے دل میں دین کا احترام اٹھ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ انسان دین اور دین والوں سے دل برداشتہ ہونے لگتا ہے لیکن اس کے مقابل پر جو شخص بیان کر رہا ہے اس کے لئے ہمدردی پیدا ہوتی ہے، اس سے تعلق بڑھتا ہے۔اس کے گرد ایک گروہ بننا شروع ہو جاتا ہے اور ایک چھوٹا سا جھوٹا خدا وہاں جنم لے لیتا ہے۔اب یہ جو مضمون ہے اس کو اگر آپ گہرائی سے سمجھیں اور جماعت احمدیہ میں اٹھنے والے فتنوں کی تاریخ پر اس کو چسپاں کر کے دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ یہ مضمون کس حد تک بار بار اطلاق پاتا ہے اور بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکر کھاتے رہتے ہیں۔کسی سے شکوہ ہے اور اگر وہ شکوہ دین کے معاملہ میں ہے تو اس کے لئے قرآن کریم نے ایک ہی رستہ بتایا ہے کہ إِنَّمَا اَشْكُوا بَنِی وَ حُزنِي إِلَى اللهِ (يوسف : 87) تنبل کا مضمون بہت ہی باریک مضمون ہے یہ دعا یہاں بھی بہت زور کے ساتھ صادق آتی ہے۔ایسا شخص جو اپنے آپ کو خدا کی خاطر پیش کئے ہوئے ہے اگر دنیا کی ہمدردی سے اس لئے باز رہتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے کہ ان لوگوں کے دین کو نقصان نہ پہنچے