سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 331

331 زندگی روز مرہ آزمائشوں میں پڑتی ہے وہاں آپ کو فریب کا ایک درندہ چھپا ہوا دکھائی دے گا ہر ایسے گوشے میں وہ ” پلنگ“ ہے۔جن کا میں نے پچھلی دفعہ ذکر کیا تھا کہ ”شاید که پلنگ خفته باشد ، غور کرنا یہاں حملہ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی چیتا تیار بیٹھا ہے اور وہاں دماغ ضرور فریب کی طرف مائل ہوتا ہے۔یہ خیال کہ وہ اس طرف جاتا نہیں ہے۔یہ درست نہیں ہے۔نیک کا دماغ بھی کسی نہ کسی عذر کی طرف جاتا ہے اور بد کا دماغ بھی جاتا ہے نیک کا دماغ جب جاتا ہے تو پھر وہ اپنے آپ کوٹو لتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ نہیں۔میں نے یہ کام نہیں کرنا اور بد فریب دہی کی وہ باتیں لذت کے ساتھ سوچتا ہے اور اس لذت میں گم ہو کر اپنے آپ کو یہ Compliments دے رہا ہوتا ہے، اپنی یہ تعریف کر رہا ہوتا ہے کہ مجھ سے زیادہ کون ہوشیار ہوگا۔میں نے یہ ترکیب سوچ لی ہے اور یہ ترکیب سوچ لی ہے۔یہی فریب کا ایک فطری رجحان ہے جو تمام گناہوں سے پہلے انسان کے دل میں جنم لے چکا ہوتا ہے۔جتنے بھی گناہ ہیں ان کی تعریف آپ جو چاہے کر لیں لیکن ہر انسان گناہ کے وقت دل میں جانتا ہے کہ یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جسے میں کھلم کھلا منظر عام پر پیش کروں اور اس پر فخر کروں۔یا سزا کا خوف مانع ہو جائے گا یا اپنی Reputation یعنی دنیا کے سامنے جو اپنی شان بنا رکھی ہے اس کے داغدار ہونے کا خیال مانع ہو جائے گا۔پس اس وقت انسان ضرور فریب کی بات سوچتا ہے کہ میں اس طرح بچوں گا اور اس طرح بچوں گا۔یہ طریق اختیار کروں گا اور یہ طریق اختیار کروں گا اگر پکڑا گیا تو یہ کہوں گا اور یہ ساری باتیں فریب کے مضمون سے تعلق رکھتی ہیں یعنی ہر جگہ ایک ایسا بندھن ہے جس کو توڑے بغیر آپ خدا کی طرف جاہی نہیں سکتے۔تو دعا کس طرح کریں گے کہ اے اللہ ! مجھے فریب سے بیچا اور وہ دعا کام کیا آئے گی جہاں اپنے آپ کو آپ نے فریب سے باندھ رکھا ہے، ہر ابتلا کے وقت ایک جھوٹے خدا کی پناہ مانگ رہے ہوتے ہیں اور دعا کر رہے ہیں اور کردار ہے ہیں کہ اے اللہ ! ہم فریب سے نجات چاہتے ہیں ہمیں بخش دے۔دعا کا مضمون دعا کا مضمون کوشش کے بعد یا کوشش کے ساتھ شروع ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں ہر وہ کوشش جو دعا کے برعکس سمت میں جارہی ہے آپ کی دعا کو نا کام کر دیتی ہے سوائے اس کے کہ ایک اور لطیف مقام تک انسان پہنچ جائے جہاں خوب دل کو ٹول کر دیکھے کہ مجھے برائی سے نفرت بھی ہے اور میں واقعۂ فیصلہ کر رہا ہوں کہ میں اس سے بچنا چاہتا ہوں اس وقت عجز کی ایک اور کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور انسان خدا کے حضور عرض کرتا ہے کہ اے اللہ ! معاملہ میری کوشش کی حد سے آگے جاچکا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا جائے تو میں اس برائی میں ہمیشہ مبتلا رہوں گا۔میں عادی بن گیا ہوں ایسے ہی گناہوں میں ملوث لوگوں کی مثال Drug Addicts کی سی ہے۔وہ لوگ جو Drugs وغیرہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں