سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 297
297 تو میں نے ربوہ پیغام بھجوایا کہ تمام اطراف سے کوشش کریں صرف لجنہ کا کام نہیں۔نظارت اصلاح وارشاد، خدام الاحمدیہ، انصار اللہ وغیرہ سب مل کر مجموعی طور پر ایک مہم چلائیں اور اپنی بہنوں کو سمجھا ئیں۔اپنی بچیوں کو بتائیں کہ اس میں کیا کیا خطرات ہیں۔پردہ کے متعلق میں نے یہ معتین نہیں کیا کہ ضرور برقعہ پہنا جائے مگر یہ بتانا کہ بہت سے خطبات میں عمومی روشنی میں ڈال چکا ہوں۔پر دہ اور بے پردہ ان دونوں کے درمیان ایک فرق ہے اور وہ برقعہ یا برقعہ کا نہ ہونا نہیں ہے۔وہ فرق ایک رجحان کا فرق ہے اور صاف پہچانا جاتا ہے۔ایک لڑکی بعض دفعہ برقعہ میں بھی بے پرد ہوتی ہے اور دوسری لڑکی عام لباس میں بھی پردہ دار ہوتی ہے تو میں نے ان کو سمجھایا کہ جورجحان ہے وہ دراصل حقیقت میں پردے سے آزادی کا رجحان ہے باقی بہانے ہیں کہ ہم برقعہ نہیں پہن سکتے جو نظر آ رہا ہے وہ تو خطرات ہیں کہ ایک معاشرہ سے متاثر ہو کر سوسائٹی اس کے سامنے سجدہ ریز ہو چکی ہے یا اس سوسائٹی کے بعض لوگ سجدہ ریز ہو چکے ہیں اور پھر وہ بہانے ہیں کہ جی برقعہ میں بھی تو لوگ بے حیاء ہوتے ہیں ان کو پہلے آپ کیوں نہیں روکتے۔ہماری طرف آتے ہیں اور ہم یہن بھی نہیں سکتے اور اس قسم کی دوسری باتیں۔تو میں نے ان کو سمجھایا کہ آپ بات وہ پیش کریں جس کا کوئی حقیقی جواب نہ ہو۔پردے کی روح کو قائم کرنے کا جہاد ہے اور ماں باپ کو سمجھائیں کہ اپنی بچیوں کو جب آپ کالجوں میں بے پرد بھیجتے ہیں اور اسی طرح وہ ہیں جس طرح باقی معاشرہ ہے تو ان کو خطرات ہیں۔اس کے نقصان ہوں گے۔اس مہم کے جواب میں جو تلخ باتیں پیغام پہنچانے والوں کو سننی پڑی ہیں اس کی تلخیاں با قاعدہ مجھ تک بھی پہنچتی تھیں اور یوں لگتا تھا جیسے انتقام لیا جا رہا ہے کہ اصلاح کی کوشش کیوں کی جارہی ہے تو ایک ہی پہلو جو پردے کا پہلو ہے اس کے لئے اگر آپ جد و جہد کریں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ کتنے صبر کی ضرورت ہے۔ہرا چھی بات کے جواب میں ایک بری بات آپ کو سنی پڑے گی کیونکہ جو شخص یہ فیصلہ کر چکا ہو کہ میں نے دنیا کی لذت یابی میں کسی دوسری قدر کی پرواہ نہیں کرنی۔میں نے اپنے مزے کی زندگی ضرور بسر کرنی ہے۔کون ہوتا ہے میری آزادی کو روکنے والا ؟ جب آپ اس کی بھلائی کی باتیں اس سے کہتے ہیں تو وہ غصہ کرتا ہے۔وہ ناراض ہوتا ہے وہ آگے سے بھڑکتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میری آزادی پر بھی حملہ کیا گیا اور میری عزت پر بھی ہاتھ ڈالا گیا۔مجھے سمجھانے والا یہ ہوتا کون ہے؟ پس نصیحت کا کام بہت ہی مشکل کام ہے اور جتنا مشکل کام ہے اتنی ہی زیادہ حکمت اور سلیقے کی ضرورت ہے۔بات کہنے کے انداز میں فرق ہو جاتا ہے۔پس یہ نہیں ہے کہ محض ایک پیغام ہے جو آپ نے آگے پہنچا دینا ہے۔یہ سوال پیدا ہو گا کہ کیسے پہنچایا جائے کن لفظوں میں بات کی جائے کیا براہ راست پیغام پہنچایا جائے یا کسی اور ذریعہ سے پہنچایا جائے۔مثلاً ایک بچی کو آپ کسی ایسی حالت میں دیکھتے ہیں اور خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ یا لجنہ کی طرف سے اس کو یا ماں باپ کو پیغام مل جاتا ہے کہ آپ کی بچی فلاں حالت میں