سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 296

296 مجالس انصاراللہ کو منصوبے بنانے چاہئیں اول : اس برائی کی بیخ کنی کے لئے خصوصاً مغربی ممالک میں مجالس انصار اللہ کو منصوبے بنانے چاہئیں اور حتی المقدور کوشش کرنی چاہئے کہ احمدی نسلوں میں عفت کا احساس پیدا ہو اور اس برائی کی جڑیں اکھیڑی جائیں کیونکہ اگر اس برائی کی جڑیں نہ اکھیڑی گئیں تو یہ برائی اپنے انتقام پر آمادہ ہوئی بیٹھی ہے۔اس برائی سے ایسی بیماریاں جنم لے چکی ہیں جو ان بچوں کو ناحق دنیا میں داخل کرنے والوں کو اس دنیا سے نکالنے کا انتظام کریں گی۔یہ خدائی انتقام ہے اور AIDS کے ذریعہ اس انتقام کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے اور دن بدن اس کے خطرات بڑھ رہے ہیں لیکن جہاں تک میرا اندازہ ہے یہ بیماری غالبا اس صدی کے آخر پر آخری دو تین سالوں میں تیزی کے ساتھ پھوٹے گی اور بہت بڑے پیمانے پر ان مجرموں کو ہلاک کرے گی۔پس اس بات کو بھی پیش نظر رکھیں تو جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ انسان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے۔پھر اس کوشش کا ایک فائدہ یہ ہے کہ چونکہ یہ کوشش معاشرہ میں چاروں طرف کی جارہی ہوگی اس لئے احمدیوں کے محفوظ ہونے کے زیادہ امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔وہ لوگ جو باشعور طور پر اپنے گردو پیش کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ خود محفوظ ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کے خود ہلاک ہونے کا کم خطرہ ہے تو ایک یہ خطرہ ہے جس کی میں نشاندہی کر رہا ہوں کہ یہ بیماری بہت تیزی کے ساتھ پھیلتی چلی جارہی ہے اور وبائی شکل اختیار کر رہی ہے اور اس کی روک تھام کے لئے وہ تمام اقدام کرنے ہوں گے جو اسلامی معاشرے نے پہلے سے کر رکھے ہیں۔قرآنی تعلیم نے پہلے سے ہی ایک منصوبہ بنا رکھا ہے۔اس منصو بہ پر عمل درآمد کا منصوبہ آپ نے بنانا ہے۔منصوبہ پہلے سے ہی موجود ہے۔عورت اور مرد کے متعلق جو فاصلے ڈال رکھے گئے ہیں جو اخلاقی تعلیم دی گئی ہے، اپنی سجاوٹ کس کے سامنے ظاہر کرنی ہے اور کس کے سامنے نہیں کرنی اور دوسرے ایسے ہی قوانین مثلا شراب کی منا ہی ہے، بے پر دعورت اور مرد کی مجالس کا اکٹھے لگانا اور بے حیائی کے ساتھ گفتگو کرنا بے حیائی کے لباس میں رہنا وغیرہ وغیرہ۔یہ ایک لمبا منصوبہ ہے جو قرآن کی پیش کردہ تہذیب اور قرآن کے پیش کردہ تمدن میں پہلے سے موجود ہے۔آپ نے اس منصوبے پر نظر رکھ کر یہ منصوبہ بنانا ہے کہ اس کو دوبارہ رائج کیسے کرنا ہے۔یہ بڑا مشکل کام ہے۔نصیحت کا کام بہت مشکل ہے اس میں غیر معمولی حکمت کی ضرورت ہے ایک پردہ کے متعلق ہی آپ گفتگو کر کے دیکھ لیں۔آپ کو کیسے کیسے جواب ملیں گے ایک دفعہ اسلام آباد پاکستان کے متعلق مجھے اطلاع ملی کہ وہاں خواتین پر دے میں زیادہ بے احتیاط ہوتی چلی جارہی ہیں