سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 278

278 جب شکایت کی گئی تو آپ نے فرمایا۔تم کیوں غم کرتی ہو تمہیں یہ جواب دینا چاہئے تھا کہ میرا خاوند بھی خدا کا رسول ہے اور میرے باپ دادے بھی خدا کے رسول تھے، ( ترمذی کتاب المناقب حدیث نمبر : 3829 ) تم مجھے کیا طعنہ دیتی ہو۔یہ ذِکرِكُمْ آبَاءَكُمْ کی ایک مثال ہے یعنی بزرگوں کا ذکر جن کا تعلق خدا سے باندھا گیا ہو۔تفاخر میں داخل نہیں ہے اور مومنوں کو یہی زیب دیتا ہے کہ ایسا ہی ذکر کیا کریں اور وہ ذکر خود بخود خدا کی طرف لے جاتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے انداز میں آپ کو بڑے بڑے نامور عرب لوگوں کا کہیں کوئی ذکر دکھائی نہیں دے گا، کہیں کوئی ذکر نہیں ملے گا۔وہ بڑے بڑے عرب را ہنما اور ہیرواور بڑے بڑے سردار جن کے ذکر سے عربی شاعری آئی پڑی ہے ان کا کوئی ذکر آپ کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے آپ کو نہیں ملتا۔اُن آباء کا ذکر ملتا ہے جن کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے جن کا خدا سے تعلق تھا اور وہ ذکر لازما اللہ کے ذکر کی طرف لے جاتا ہے اَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا بن جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب خدا تعالیٰ کے ذکر پر خطاب فرمایا کرتے تھے تو بعض دفعہ اتنا جوش پیدا ہو جاتا تھا کہ ایک موقع پر جبکہ خدا تعالیٰ کی صفات جلال و جمال کا ذکر فرمارہے تھے تو منبر کانپنے لگا جس پر آپ کھڑے تھے اور روایت کرنے والے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ڈر تھا کہ یہ منبر اس جوش کے ساتھ ٹوٹ جائے گا لرزتے لرزتے یہ منبر ٹوٹ کر زمین پر جاپڑے گا اور ہمیں ڈر تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گر کر چوٹ (مسند احمد حدیث نمبر : 5351) نہ آجائے۔تو یہ آشَدَّ ذِكْرًا کا مضمون ہے جو حدیث سے ہمیں سمجھ آتا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے سمجھ آتا ہے کہ جب خدا کا ذکر آئے تو وہ ساری روح پر قبضہ کرلے اور انسان کے وجود میں ایک غیر معمولی شان اور جلال پیدا ہو جائے۔اس کا وجود خدا کے ذکر سے لرزنے لگے اور ماحول کولرزہ براندام کرے۔ایسی ریڈیائی لہریں پھیلا دے کہ جن تک وہ لہریں پہنچیں وہ بھی ان سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوکر اسی ذکر کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں۔یہ ہے جو آشَدَّ ذِكْرًا کا مضمون ہے۔اس کا جماعت احمدیہ کی موجودہ نسلوں کی تربیت کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔اپنے بزرگ آبا واجداد کا ذکر اگلی نسلوں کے سامنے کرتے رہوتا اگلی نسلیں اس معیار پر قائم ہوسکیں میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے ایسے بزرگ آباؤ اجداد جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یا آپ کے بعد خلافت اولی یا خلافت ثانیہ میں بیعتیں کی تھیں اور غیر معمولی دینی ترقیات حاصل کیں ، غیر معمولی قربانیاں دیں اور ان کا ذکر اگلی نسلیں بھول رہی ہیں اور ان کے ماں باپ بھی اس ذکر کو