سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 279
279 زندہ نہیں رکھتے نیچے وہ کتابوں کے پھول بنتے جارہے ہیں اور کتابیں بھی ایسی جن کو کم لوگ پڑھتے ہیں۔پس یہ انداز جو ہے زندہ رہنے کا انداز نہیں ہے قرآن کریم نے ہمیں زندگی کا جو راز سمجھایا ہے اس کی رو سے آپ کو اپنے آباؤ اجداد کے ذکر کو لاز مازندہ رکھنا ہوگا۔چنانچہ گزشتہ چند سالوں میں میں نے جماعتوں کو بار بار نصیحت کی کہ وہ سارے خاندان جن کے آباؤ اجداد میں صحابہ یا بزرگ تابعین تھے، اُن کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندان کا ذکر خیر اپنی آئندہ نسلوں میں جاری کریں مگر افسوس ہے کہ ابھی تک کما حقہ توجہ نہیں دی گئی۔مجھے سے جو خاندان ملنے آتے ہیں۔ان بچوں سے جب میں پیار کی باتیں کرتا ہوں تو بسا اوقات یہ بھی پوچھا کرتا ہوں کہ تمہارے دادا کا نام کیا ہے؟ تمہارے نانا کا نام کیا ہے؟ پس وہ ابوامی یا ممی ڈیڈی تک ہی رہتے ہیں اور آگے نہیں چلتے۔یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔ماں باپ بھی سنتے ہیں تو اُن کے چہرے پر ہوائیاں نہیں اڑتیں بلکہ ہنس پڑتے ہیں کہ دیکھو جی اس کو تو اپنے نانا کا نام نہیں پتا ، اپنے دادا کا نام نہیں پتا۔یہ کوئی لطیفہ تو نہیں۔یہ تو المیہ ہے یہ تو بہت ہی درد ناک بات ہے ان کو تو یہ بات دیکھ کر لرز جانا چاہئے تھا کہ جن کے ذکر کو زندہ رکھنا حقیقت میں ضروری ہے جو آئندہ اُن کے اخلاق کی حفاظت کرے گا ان کے ذکر سے تو یہ لوگ غافل ہیں ان کو پتا ہی نہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کون تھے، کیا ہوئے۔انہوں نے دین کی خاطر کیا کیا قربانیاں کیں؟ پس پہلے ذِكْرِكُمْ آبَاءَ كُھ کے مضمون سے بات شروع کریں اور ان نیک لوگوں کے ذکر کو اپنی اپنی مجالس میں زندہ کریں۔اپنی اپنی قوموں میں اُن کے ذکر کو زندہ کریں اور پھر ہر خاندان میں اس ذکر کو زندہ کریں۔پھر جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے یہ ذکر لاز ما ذکر الہی میں تبدیل ہوگا کیونکہ ان کے ذکر کی تو جان ہی اللہ کے تعلق میں ہے۔یہ وہ پاک نسلیں ہیں جو خدا کی ہو چکی تھیں ان کا خدا کے ساتھ کوئی تشخص دکھائی نہیں دیتا۔اب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی بات کریں تو ان کے آباؤ اجداد ، خاندان، قومیت کا کسی قسم کا کوئی تصور ذہن میں نہیں آتا۔ایک ایسا پاک آسمانی شہر راہ دکھائی دیتا ہے جو کلیۂ خدا کا ہو چکا تھا اور اُس نے اپنے خون کے ایک ایک قطرہ سے اپنی وفا ثابت کی ہے۔اس کو ذِكُرِكُمْ آبَاءَكُم کہتے ہیں یعنی مذہبی اصطلاح میں آباء کا ذکر کرنا اور یہ ذکر تو خدا پر ختم ہوتا ہے اور خدا کے علاوہ اس ذکر کی حقیقت کوئی نہیں رہتی ، ذکر بنتا ہی نہیں۔ان بزرگوں کا ذکر کر کے ناممکن ہے کہ خدا یاد نہ آئے۔پس ان معنوں میں آپ اپنی اگلی نسلوں کی تربیت کریں مجھے پتا ہے کہ تربیت کے لئے بہت سی تقریریں ہوں گی ، مضامین لکھے جائیں گے نصیحتیں ہوں گی مگر ایسی تقریریں اور ایسی نصیحتیں جو علمی لحاظ سے کوشش کر کے تیار کی گئی ہوں اگر ان میں دل نہ ہو تو بے اثر ہوتی ہیں، کوئی اثر پیدا نہیں کرتیں۔تقریر میں اثر پیدا کرنے کے لئے ایک لگن چاہئے جس میں ایک انسان کا سارا وجود اس مضمون میں شامل ہو جائے جو وہ پیش کر رہا ہے اس کے بغیر زبان میں اثر پیدا نہیں ہوسکتا اور یہ وہ ذکر ہے جو میں بتا رہا ہوں کہ اس ذکر کے