سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 277

277 طرح تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو۔جب ایک نسل جو صحابہ کی نسل ہے وہ گزر جاتی ہے تو اگلی نسل میں ایک قسم کا ویسا ہی ماحول پیدا ہوتا ہے جیسے حج سے باہر آگئے ہوں ، جیسے دوبارہ زمانے کے خطرات کے سامنے ان نسلوں کو پیش کر دیا گیا ہو۔اس وقت بھی یہی مضمون کارفرما ہوگا اور حفاظت کا یہی ایک طریق ہے جو کارآمد ثابت ہوسکتا ہے کہ ذکر میں پناہ لو۔ذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ کا مضمون سمجھنے کے لائق ہے۔دنیا میں جتنی قو میں ہیں وہ اپنی اعلیٰ روایات کی حفاظت اپنے قومی ہیروز اور بزرگوں کا ذکر کر کے کیا کرتی ہیں۔اگر قوموں کی تاریخ سے ان کے آباء کا ذکر مٹا دیا جائے اور فراموش کر دیا جائے تو وہ قو میں اپنی تمام روایات کو بھول کر ان رستوں کو کھو دیں گی جن روایات پر چلتے ہوئے ان کے آباء نے بعض رستوں پر قدم مارے تھے اور ترقیات ان کو نصیب ہوئی تھیں۔پس ذکر کا مضمون آئندہ نسل کی تربیت کے ساتھ ایک بہت گہرا تعلق رکھتا ہے یہاں جو ذِكْرِكُمْ بَاءَ كُھ فرمایا گیا ہے۔اس میں مثال تو دنیا کے ذکر کی دی ہے لیکن مذہبی تعلق میں نصیحت ہے اس لئے ہمیں ذکرِ كُمْ آبَاءَكُمْ کی وہ تشریح کرنی ہوگی جو قرآنی آیات کے مطابق ہے اگر دنیا کی قوموں سے کہا جائے کہ تم اس طرح ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو تو اُن کے ذہن میں مختلف قومی ہیرو ابھریں گے مگر جب مذہبی دنیا میں گفتگو ہو تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرمایا گیا ہو اور آپ کے غلاموں کو مخاطب فرمایا گیا ہو تو ذِكرِكُمْ آبَاءَكُمْ کا مضمون ایک اور رنگ اختیار کر جاتا ہے یہ ذکر ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء کا ذکر ملتا ہے، ابراہیم کا ذکر ماتا ہے، نوح کا ذکر ملتا ہے۔آدم کا ذکر ملتا ہے اور ابراہیم کے بعد نسلاً بعد نسل ان اولا دوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنے آباء کے ذکر کی حفاظت کی تھی۔اپنے بزرگ آباء کے حوالے سے اپنی اعلیٰ روایات زندہ رکھو پس یہ ذکر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ اس طرح مل جاتا ہے جیسے دو چیزیں ایک دوسرے میں پیوست ہو کر یک جان ہو جائیں اور ایک کا دوسرے سے فرق نہ رہے تو اپنے بزرگ آباء کے حوالے سے اپنی اعلیٰ روایات کو زندہ رکھو اور ذکر الہی میں اور بھی زیادہ شدت اختیار کر جاؤ۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نصیحت کا یہی طریق تھا۔بزرگوں کے حوالے سے، نیک لوگوں کے حوالے سے نصیحت فرمایا کرتے تھے اور بزرگ آباء کے ذکر کو تفاخر میں شمار نہیں فرماتے تھے بلکہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔چنانچہ ایک موقع پر جب آپ کی دوازواج مطہرات میں کچھ اختلاف ہوا اور ایک نے دوسری کو طعنہ دیا کہ تم تو یہو دن ہو، یہودی نسل سے ہو۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور