سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 245
245 جنہوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر مسیح کو سولی پر لٹکوانا گوارا کر لیا لیکن میں بعد کی بات کر رہا ہوں۔جب مسیح نے قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تو اس وقت ان کے اندر ایک عظیم الشان انقلاب بر پا ہوا ہے اور وہی انصار جو ڈرے ڈرے، چھپے چھپے کمزور دکھائی دیتے تھے انہوں نے پھر اتنی عظیم الشان قربانیاں پیش کی ہیں کہ تاریخ نبوت میں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے سوا آپ کو کہیں ایسی عظیم الشان قربانیاں دکھائی نہیں دیں گی۔تین سوسال کے عرصہ پر پھیلی ہوئی ایسی دردناک قربانیاں ہیں اور ایسی مستقل مزاجی رکھنے والی قربانیاں ہیں کہ جن میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی کبھی کوئی کمزوری نہیں آئی ایک نسل بھی بعض دفعہ قربانیاں کرتے ہوئے تھک جاتی ہے اور یہ پوچھنا شروع کر دیتی ہے کہ کب خدا کی مدد آئے گی؟ کب ہمارے دن بدلیں گے؟ لیکن مسیح کی دعوت پر جن لوگوں نے نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کہا کہ ہم انصار اللہ ہیں انہوں نے اس وعدہ کا حق ادا کر دیا اور جانیں دیں، جانوروں کے سامنے ڈالے گئے ، درندوں کے سامنے ڈالے گئے ، لوگ بڑے بڑے تھیٹر ز میں اور تماشہ گاہوں میں بیٹھے ہوتے تھے اور ان کے سامنے پنجروں سے بھوکے شیر یا بیل یا اور قسم کے خوفناک جانور حضرت مسیح کے غلاموں پر چھوڑے جاتے تھے کیونکہ وہ دنیا کی خاطر دین کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ان کو پہلے ڈرایا جاتا تھا اور ان کی عاقبت کے بارہ میں خوب اچھی طرح خبر دار کر دیا جا تا تھا بار باران کو سمجھایا جاتا تھا کہ تو بہ کر لو اور مسیح کو چھوڑ واور ہمارے خداؤں کے سامنے سر جھکاؤ دور نہ تمہارا یہ انجام ہوگا۔یہ ساری باتیں سننے کے بعد یقین کرنے کے بعد وہ یہی کہا کرتے تھے۔کہ ہم مسیح کو کبھی نہیں چھوڑیں گے جو چاہو کر لو اور اس کے نتیجہ میں پھر ان پر بڑے بڑے ابتلاء آئے ان کی سچائی کو طرح طرح سے آزمایا گیا اور یہ جو باتیں میں بیان کر رہا ہوں یہ حقیقت ہے اور اس میں کوئی بھی افسانہ نہیں یہ تاریخی حقائق ہیں کہ ان ایمان لانے والوں کمزوروں اور بھوکوں کو تماشہ گاہوں میں میدان کی طرف سے نکالا جاتا تھا اور دوسری طرف سے بھو کے شیروں یا بھیڑیوں یا اور درندوں کو چھوڑا جاتا تھا اور وہ آنا فانا ان کو چیر پھاڑ کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا کرتے تھے ان کی ہڈیوں کو جھنجھوڑتے تھے ان کے گوشت کو کھاتے اور ان کے خون کو پیتے تھے اور سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھتا تھا اور خوشی سے نعرے لگائے جاتے تھے کہ یہ مسیح کے ایک اور ماننے والے کو ہم نے اس بد انجام کو پہنچایا یہ ایک نسل کی بات نہیں دو نسل کی بات نہیں ایک سو سال میں کئی نسلیں گزر جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آئے ہوئے ابھی ایک سوسال ہوئے ہیں اور آپ دیکھیں کہ ہماری چوتھی پانچویں نسل بلکہ چھٹی نسل تک میں نے ایک خاندان میں گن کر دیکھے تھے اور یہ چھ نسلیں ایک سوسال کے اندراندر پیدا ہوگئی ہیں تو تین سو سال تک کتنی نسلیں ہیں جنہوں نے کامل وفا کے ساتھ اس عہد کو نبھایا ہے اور سیح ناصرتی سے وفا کی ہے۔یہ مطلب ہے انصار اللہ بنے کا لیکن میں بعض دفعہ تعجب سے اور دُکھ سے دیکھتا ہوں کہ پاکستان سے بعض احمدی لکھ دیتے ہیں کہ اب تو حد ہوگئی کہ اب اور کتنی مدت تک خدا ہم سے انتظار کروائے