سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 244
244 طرح کریں جس طرح قرآن کریم میں ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کی تفصیل میں کچھ اور باتیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس آیت میں جو عمومی تصویر کھینچی گئی ہے اسے ہم اُردو میں اس طرح پیش کر سکتے ہیں کہ تن من دھن کی بازی لگا دو اپنا سب کچھ اس راہ میں جھونک دو کچھ بھی باہر نہ رکھو۔یہ وہ چیز ہے جولگن سے تعلق رکھتی ہے جیسے کسی چیز کی لولگ جاتی ہے، کسی چیز سے انسان کو عشق ہو جائے۔وہ کیفیت ہے جو بیان فرمائی گئی ہے اور یہ ایک مضمون نگاری نہیں بلکہ فی الحقیقت ہے یہی معنی ہیں اور اس کے سوا کوئی اور معنی نہیں بنتے ہیں جو اس آیت میں بیان فرمائے گئے کیونکہ عشق کے بغیر انسان نہ تو اپنا مال پیش کر سکتا ہے نہ جان پیش کر سکتا ہے۔کوئی پاگل تو نہیں ہو گیا کہ کسی کو اپنا سب کچھ دے دے، مال بھی دے دے اور جان بھی دے دے۔کن معنوں میں انصار بنا جائے یہ مضمون عشق سے تعلق رکھتا ہے اگر انسان محبت میں پاگل ہوتب ہی وہ ایسی حرکت کرتا ہے ورنہ کوئی سر پھرا تو نہیں کہ بے وجہ کسی کو اپنا مال بھی دے دے اپنی جان بھی اس کے حضور حاضر کر دے جب فرمایا: مَنْ اَنْصَارِي اِلَى اللهِ۔تو دراصل کن معنوں میں انصار بنا تھا اس کا نقشہ پہلے ہی کھینچا گیا ہے اور اس کے بعد مسیح کا یہ پیغام دیا گیا تا کہ انسان خوب اچھی طرح سمجھ لے کہ جب میں نے خدا کی راہ میں مسیح کے انصار میں داخل ہونا ہے تو مجھ سے کیا توقع کی جاتی ہے۔ناصر بنا کس کو کہتے ہیں؟ پہلے خوب سمجھایا گیا پھر مسیح کا دعویٰ پیش کیا گیا پھر مسیح موسوی کی قوم کا جواب پیش کیا گیا اور عملاً یہ صلائے عام دی گئی کہ اے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموا مسیح موسوی سے اس کی قوم نے جو محبت اور عشق کا سلوک کیا تھا کیا تم مسیح محمدی سے اس سے بڑھ کر محبت اور عشق کا سلوک نہیں کرو گے؟ اگر مسیح موسوی کے غلاموں نے بڑی شان کے ساتھ اور بڑی عاجزی کے ساتھ اور کامل خلوص اور صدق کے ساتھ خدا کی خاطر مسیح کے حضور اپنے اموال اور جانیں پیش کر دیئے تھے تو کیا تم بھی ایسا نہیں کرو گے یہ وہ سوال ہے جو اس میں مضمر ہے، اس میں شامل ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ ایک عشق کا نظارہ ہے۔حضرت مسیح کے انصار کی کیفیت حضرت مسیح کے انصار کے حالات پر آپ نظر ڈالیں تو واقعہ یوں لگتا ہے جیسے وہ دیوانے ہو گئے۔ایک وہ کیفیت تھی جب حضرت مسیح صلیب کی آزمائش سے ابھی گزرے نہیں تھے۔اس کیفیت میں آپ بعض دفعہ ان کے متعلق ایسے تبصرے بھی کر دیتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ایمان میں کوئی جلا نہیں تھی ، کوئی خاص شان نہیں تھی ، ایسے بھی تھے جنہوں نے دنیا کی لالچ میں میسیج پر لعنت بھیج دی۔ایسے بھی تھے