سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 246

246 گا؟ اتنی تکلیفیں پہنچ گئیں خدا کی مدد کیوں نہیں آتی۔کیوں نقتے نہیں بدلتے ، کیوں دشمن ہلاک نہیں ہوتا ؟ میں حیرت سے دیکھتا ہوں اور میرا دل خون ہو جاتا ہے ان باتوں کو سن کر کے تم نے مسیح مہدی سے وعدہ کیا ہے کہ ہم اپنی جان مال عزت سب کچھ پیش کر دیں گے اور جو اپنی جان دے دے اس کو پھر اس سے کیا غرض کہ میرے بعد کیا ہوگا یا میں کیا دیکھتا ہوں اور کیا نہیں دیکھتا۔انصار اللہ جب کہہ دیا تو سب کچھ خدا کے سپر د کر دیا مسیح محمدی کی طرف منسوب ہو کر سو سال نہیں صرف ایک نسل کی تکلیف برداشت کرتے ہوئے تم ہمت ہار دو تو کیا تمہیں زیب دیتا ہے کہ مسیح محمدی کے انصار ہونے کا دعوی کرو۔پس اس سورۃ الصف میں ہمارے لئے ایک پوری تاریخ کھول کر بیان فرما دی گئی ہے ہمارا کیا کردار ہونا چاہئے ، کن کن قربانیوں کی اللہ تعالیٰ ہم سے توقع رکھتا ہے کس عہد و پیمان کی ہم سے توقع رکھتا ہے اور پھر سابق مسیح کی طرف اشارہ کر کے پوری مسیحیت کی تاریخ کھول کر ہمارے سامنے رکھ دی اور بتایا کہ اس راہ میں یہ یہ ابتلاء آئیں گے، یہ یہ مشکلات پیش ہوں گی۔ایک نسل کی فتح کا سوال نہیں ، دو نسلوں کی فتح کا سوال نہیں تمہاری فتح کا زمانہ لمبا بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک وعدہ فرما دیا اور وہ وعدہ فَتْح قریب کا وعدہ ہے۔یہ وہ پہلو ہے جو میں آپ کے سامنے خوب اچھی طرح کھولنا چاہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بارہا اس مضمون کو کھول کر بیان فرمایا ہے کہ اگر چہ مجھے مسیح ناصری سے تشبیہ دی گئی لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے میری تکلیفیں بھی کم کی گئی ہیں اور اسی نسبت سے تمہاری تکلیفیں بھی کم کی گئی ہیں۔اسلامی نکتہ نگاہ سے انصار اللہ کے معنی فرمایا اگر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت نہ ہوتی تو میں بھی روئے صلیب ضرور دیکھتا کیونکہ میں واقعہ مسیح کا مثیل ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اور آپ کی دعاؤں کی برکت سے ہماری آزمائشوں کو چھوٹا بھی کر دیا اور آسان بھی فرما دیا ہے۔پس آپ نے اس مضمون کو بھی خوب کھول کر بیان فرمایا کہ اگر چه سیح کو تین سو سال کے بعد غلبہ عطا ہوا تھا اس لئے اگر مجھے اور میری جماعت کو بھی تین سو سال میں غلبہ عطا ہو تو کوئی تعجب یا اعتراض کی بات نہیں لیکن میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے ہمارے غلبے کی مدت کو کم کر دیا جائے گا۔وہ زمانہ جو قربانیوں کا زمانہ ہے وہ چھوٹا کر دیا جائے گا اور جزا کے زمانہ کو لمبا کر دیا جائے گا۔پس فتح قریب نے یہاں یہ وعدہ کیا ہے کہ اے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامو! اگر تم یہ وعدہ پورا کرو اس تجارت کی طرف آجاؤ جس کی طرف ہم تمہیں بلاتے ہیں تو خدا تعالیٰ تمہاری فتح کے دن قریب کر دے گا اور تمہیں تین سو سال کے انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔