سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 199

199 گا۔اس مضمون کو قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا: اَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (ابراہیم : 25 ) کہ وہ کلمات طیبہ جو خدا کے کلام کا مظہر ہوا کرتے ہیں ان کی مثال ایسے درختوں کی ہے جن کی جڑیں ثابت ہوں اور جن کی شاخیں آسمان سے باتیں کرنے والی ہوں۔یہاں لفظ ثابت استعمال کیا گیا۔یہ نہیں فرمایا گیا کہ جڑیں گہریں ہو لیکن اس ایک لفظ ثابت نے دو مضامین بیان کر دیئے کیونکہ بعض درخت جن کی جڑیں گہری ہوں اور کھوکھلی ہوں یعنی اندرونی طور پر بیماریوں کی شکار بھی ہوں وہ ثابت نہیں ہو سکتے اور بعض دفعہ اپنے مادے کے مزاج کے لحاظ سے یعنی قدرت نے مادے کو جو صفت بخشی ہے اس پہلو سے بعضوں کی جڑیں ویسے ہی کمزور ہوتی ہیں۔گہری ہوتی ہیں مگر جب آندھی چلتی ہے تو وہ درخت یوں جڑوں سے ٹوٹ کے گر جاتے ہیں اور اگر گہری نہ ہوں اور مضبوط ہوں اور زمین کی سطح پر پھیلی ہوں جیسا کہ عموماً یورپین درختوں میں یہ بات پائی جاتی ہے۔تو بڑے بڑے تناور درخت بہت اچھے لہلہاتے ہوئے نشو ونما پاتے ہوئے ہر موسم میں ترقی کرتے ہوئے درخت آندھی کے مقابل پر اس طرح منہدم ہو جاتے ہیں جس طرح بعض دفعہ کھوکھلی جڑوں والے درخت گر جاتے ہیں۔پیچھے جب آندھیاں آئیں تو جن پارکوں میں کبھی کسی میں، کبھی کسی میں، ہم سیر پر جاتے رہے ہیں۔ان میں جب سیر پہ جانے کا موقعہ ملا تو میں نے تعجب سے دیکھا کہ بہت ہی عظیم الشان درخت جن کا بہت رعب پیدا ہوتا تھا ان کی جڑیں سطحی تھیں اور اکثر درخت جڑوں سے اکھڑے ہوئے ہیں۔ان کی جڑیں بھی ساتھ اکھڑی ہوئی ہیں۔ان کے او پر لفظ ثابت کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ثابت لفظ میں دونوں خوبیاں آجاتی ہیں۔ایسی جڑیں جو مضبوط ہوں اور درخت کو تحفظ دیں اور ایسی جڑیں جو گہری ہوں کیونکہ ابتلاء کے وقت اگر وہ گہری نہیں ہوں گی تو ثابت نہیں رہ سکیں گی۔اس لئے مضبوط بھی ہوں تو کافی نہیں۔پس قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا یہ کمال ہے کہ اس نے تقویٰ کے درخت کی مثال ایسے جڑوں والے درخت کی مثال سے دی ہے جس کی جڑیں ثابت ہوں یعنی مضبوط بھی ہوں اور گہری بھی ہوں اور ابتلاء کی کوئی آندھی انہیں ہلا نہ سکے اور ہر حال میں نشو ونما پانے والے ہوں۔جتنی ان کی جڑیں ثابت ہوں گی یعنی مضبوط اور گہری ہوں گی اتنا ہی ان کا تقویٰ مضبوط ہوگا۔دراصل یہ تقویٰ کی تعریف ہے یعنی انکساری وہ جو حقیقی اور عارفانہ انکساری ہے اور چھپی ہوئی نیکیاں وہ جو جراثیم کے اثر سے پاک ہیں اور ان کے نتیجے میں ان کے درخت وجود کو ایک مضبوطی اور طاقت ملتی ہے۔یہ تقویٰ کی بہترین مثال دی گئی ہے جتنی نیکیاں ان کی چھپی ہوئی ہیں اتنا ہی ان کے درخت کو اللہ تعالیٰ رفعتیں عطا کرتا ہے۔ان کی نیکیاں جتنی