سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 198

198 اور وہ یہ ہے۔کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرہ: 4) خدا سے تعلق رکھنے والے جو متقی ہیں ( تقویٰ کی تعریف ہی ہو رہی ہے کہ وہ کیا ہے؟) فرمایا : متقی وہ لوگ ہیں کہ خدا جو ان کو دیتا ہے وہ خدا کی راہ میں آگے جاری کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود کے صحابہ کا نمونہ پس وہ بزرگ جن کا میں نے ذکر کیا جو بچے بزرگ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پروردہ تھے ان کو ایک ہاتھ سے ملتا تھا تو وہ دوسرے ہاتھ سے لوگوں پر خرچ کیا کرتے تھے۔ایک ہاتھ سے ملتا تھا تو دوسرے ہاتھ سے وہ جماعت پر خرچ کیا کرتے تھے۔اور ضرورتمندوں کی ضرورت پورا کرنے پر نگران اور مستعد رہا کرتے تھے اور یہ وہ بات تھی جو ان کو عام لوگوں سے جولوگوں کی دولتیں بٹورنے کی خاطر بزرگ بنتے ہیں ان سے ممتاز اور الگ کر دیا کرتی تھی۔یہ جو نیک بیبیوں کے اڈے بعض دفعہ بن جاتے ہیں اور غیر احمدیوں میں تو کثرت سے یہ رواج ہے ان میں بھی آپ یہ بات دیکھیں گے کہ یہ نیک بیبیاں چندوں میں پیچھے ہوں گی بلکہ شاید نہ ہی دیتی ہوں اور غریبوں پر خرچ کرنے والی نہیں ہوں گی بلکہ اپنے تقویٰ کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنا ایک بلند مقام بنا کر گدی بنانے کی کوشش کرتی ہیں اور ایسے نیک مرد بھی ہوتے ہیں یعنی بظاہر نیک مرد اور پھر بعضوں کے ملے جلے حالات بھی ہوتے ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا حال ہے، کچھ خرچ کرنے والے بھی ہیں لیکن بعض دفعہ ریا کاری ان کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہے۔نیک بنے کا شوق اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی ان سے جھک کر سلام کرتا ہے۔ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے اور بڑے مزے سے ہاتھوں کو لمبا کر کے اس پہ بوسہ وصول کرتے ہیں اور متقی وہ ہے جو شرم سے غرق ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرا کوئی حق نہیں ہے اگر یہ شخص میری بدیوں پر نظر ڈالے تو متنفر ہوکر مجھے پیٹھ دکھا کر چلا جائے اور اب ان دونوں کے دل کے معاملات ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون متقی ہے اور کون نہیں مگر وہ لوگ جن کوخدا اپنا نور عطا کرتا ہے وہ ظاہری طور پر ثبوت نہ ہونے کے باوجود جانتے ہیں کہ کن میں بچے تقویٰ کی روح ہے اور کن میں بچے تقویٰ کی روح نہیں ہے۔اس دوسرے پہلو سے تقویٰ کا معیار بڑھانے کے لئے انکسار کا معیار بڑھانا ضروری ہے۔تقویٰ کی جڑیں جتنی گہری ہوں اتنا ہی زیادہ تقویٰ کا درخت نشو و نما پاتا ہے یاد رکھیں کہ تقوی کی جڑیں بھی گہری ہوں اتحادی زیادہ تقوی کا درخت نشو نما پاتا ہے اور تقوی کی جڑیں گہری ہونے کا مطلب انکسار کا بڑھنا ہے۔جتنازیادہ کسی شخص میں عارفانہ انکسار ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کی جڑیں زمین میں گہری پیوست ہوں گی اور اتنا ہی زیادہ صحیح معنوں میں اس کا تقویٰ کا درخت نشو ونما پائے