سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 200
200 ہے صحت مند ہیں اتنا ہی وہ آزمائشوں کے مقابل پر ثابت قدم ہونے کی استطاعت رکھتے ہیں اور طاقت پاتے ہیں۔ایسے درختوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر حال میں پھل لگتے رہتے ہیں اور ان کے پھل دائمی ہوتے ہیں۔آسمان سے ان کو پھل ملتے ہیں لیکن جڑیں ان کی ان کے انکسار کی وجہ سے چھپی ہوئی ہوتی ہیں اور زمین کے اندر گہری داخل ہو جاتی ہیں اور ان کی گہرائی کا تناسب ان کی بلندی کے ساتھ ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاء (ابراہیم: 25) یہ دو متقابل تصویر یں ہیں جن کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔جتنی ثابت ہوں گی جتنی مضبوط اور گہری ہوں گی اتنا ہی درخت بلند تر ہوتا چلا جائے گا۔امراء کو اپنے عہدیداران کی تربیت کرنی چاہئے پس اس پہلو سے ان صفات کی پرورش کرنے کی ضرورت ہے یعنی جس طرح ماں بچوں کی پرورش کرتی ہے۔جس طرح ایک زمیندار اپنے درختوں کی پرورش کرتا ہے اور ہر ایسا ذریعہ استعمال کرتا ہے جس سے یہ صفات پیدا ہوں جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں، اسی طرح امراء اور عہدیداران کو اپنے ماتحت عہدیداران کی تربیت کرنی چاہئے اور ان سے معاملات کے درمیان جب ایسی باتیں دکھائی دیں جن سے معلوم ہو کہ بعض پہلوؤں سے ان کے تقویٰ میں کمزوری ہے۔بعض دفعہ جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں، بعض دفعہ کسی شخص سے اس بنا پر حسد کرنے لگتے ہیں کہ اس کو امیر کا زیادہ قرب حاصل ہے اور اس کی کمزوریوں کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔بعض دفعہ اپنے مزاج کے اختلاف کی وجہ سے دوسرے کی اچھی بات بھی ان کو بری لگنے لگ جاتی ہے اور مجلس عاملہ میں اس بنا پر پارٹی بازی شروع ہو جاتی ہے بعض دفعہ گروہی تعلقات کی بنا پر مشورے غلط دیئے جاتے ہیں اور جس کے ساتھ زیادہ دوستی ہو اس کی ضرور تائید کرنی ہے۔اگر ضرور نہیں تو اکثر صورتوں میں تائید کرنی ہے۔اس قسم کی بہت سی بیماریاں ہیں جو جڑوں کو کھانے والی ہیں۔ایسے درختوں کی جڑیں بظاہر گہری بھی ہوں تو ثابت نہیں کہلا سکتیں۔پس ایک امیر کے لئے ایک صدر کے لئے یا دوسرے منتظم کے لئے اگر وہ اپنا تقویٰ کا معیار بڑھا لے اور خدا کے نور سے دیکھنے لگ جائے یہ باتیں معلوم کرنا ہر گز مشکل نہیں ہے۔اس لئے ان باتوں پر وہ جنگی محسوس کرنے کی بجائے ایسے لوگوں کے لئے گہری ہمدردی کے جذبات رکھے ان کی خاطر دکھ محسوس کرے۔ینگی اور چیز ہے اور دکھ اور چیز ہے ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔تنگی کے نتیجے میں بعض امراء پھر بیزار ہونے لگتے ہیں۔کہتے ہیں کیا بکواس ہے۔کس قسم کے بیہودہ لوگ ہیں اور ان کے دل اچاٹ ہونے لگ جاتا ہے۔دکھ کے نتیجے میں ان کے لئے زیادہ فکر ، ان سے زیادہ گہرا تعلق ہونے لگ جاتا ہے۔پس تنگی محسوس کرنے کی بجائے ان کے لئے دکھ محسوس کرنا چاہئے۔تنگی کو خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح