سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 193

193 دیں کہ آپ منتظم ہیں اور تقویٰ کے نگران اور لوگ ہیں۔آپ ہی منتظم ہیں اور آپ ہی تقویٰ کے نگران بھی ہیں اس لئے سب سے زیادہ آپ کی نظر اپنے ماتحت کارکنوں کے تقویٰ پر بھی ہونی چاہئے اور عام افراد جماعت کے تقوی پر بھی ہونی چاہئے اور ہمیشہ اس فکر میں غلطاں رہنا چاہئے کہ میرے دائرہ کار میں جو احمدی بستے ہیں خواہ کسی حیثیت سے بھی ہوں، کسی عمر سے تعلق رکھنے والے ہوں، ان کے تقویٰ کا کیا حال ہے ان پر نظر رکھنی ضروری ہے ان کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے ہمیشہ تجزیاتی نظر اختیار کرنی چاہئے۔لیکن تجزیاتی نظر سے مراد تخریبی ،تنقیدی نظر نہیں یا منتقمانہ نظر نہیں اس معاملے میں جماعت کو بار بار نصیحت کی ضرورت ہے۔بعض لوگ اپنی خشکی کو نیکی سمجھنے لگتے ہیں اور خشک مزاجی کی وجہ سے کیونکہ وہ بدی کرنے کے اہل ہی نہیں ہوتے ، کیونکہ مزاج ہی بڑا خشک ہوتا ہے اس میں رس ہی کوئی نہیں ہوتا ، اس سے کوئی نچوڑے گا کیا ؟ نہ نیکی نچڑتی ہے نہ بدی نچڑتی ہے اور وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم تقویٰ کے بڑے اعلیٰ معیار پر فائز ہیں اور ان کی علامت یہ ہے کہ ان کی تنقیدی نظر ہمیشہ لوگوں کو چھلنی کرتی رہتی ہے اور کبھی اندرونی نظر سے اپنے آپ کو نہیں دیکھتے اور یہ بھی نہیں دیکھتے کہ میری باتیں کس کو تکلیف پہنچاتی ہیں یا آرام پہنچا رہی ہیں۔میں بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے باتیں کر رہا ہوں یا اپنا ایک دبا ہوا جذبہ انتقام پورا کر رہا ہوں اور یہ ظاہر کر رہا ہوں کہ میں بہتر ہوں تم لوگ گندے ہو۔ایسے لوگ نیکوں پر بھی تنقید کرتے ہیں یہ بتانے کے لئے جی یہ فلاں بات میں تو نیک ہوگا۔آپ کو لگتا ہوگا اندر سے پھولو تو یہ حال ہے اور گویا خدا نے ان کو داروغہ بنایا ہوا ہے۔اندر سے پھولنے کا، یہ پھولنے کا لفظ پنجابی ہے لیکن ہے بہت بر حمل اطلاق پانے والا اس لئے میں نے عمداً اس کو استعمال کیا ہے۔یعنی کرید کرید کر اندر سے تلاش کر کے قریب سے دیکھ کر معلوم کرنا کہ کون کون سے نقص اس پر دے کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں جو خدا کی ستاری کا پردہ ہے۔پس یہ خدا کی ستاری کے پردے کو چاک کر کے اس سے پرے جھانک کر مومنوں کی برائیاں تلاش کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔امیر کا منتظم کا ایسی آنکھ سے احتراز ضروری ہے اور ایسی سرشت سے اس کو تو بہ کرنی چاہئے اور اللہ تعالی کی پناہ میں آنا چاہئے۔اس کی نظر بالکل اور طریق سے اپنی جماعت کو، اپنے ماتحتوں کو دیکھتی ہے۔جیسے ماں اپنے بچے کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔اس کی نظر میں پیار ہوتا ہے، اس کی نظر میں فکر ہوتا ہے، اس کی نظر جب کسی برائی کو تلاش کرتی ہے تو اس کو گہر اغم لگادیتی ہے ، روگ لگا دیتی ہے اور وہ بے چین ہو جاتا ہے دوسرے کو بے چین نہیں کرتا خود بے چین ہوتا ہے اور اس بے چینی کے نتیجے میں اس کے دل سے جو دعائیں اٹھتی ہیں ان میں ایک عجیب شان پیدا ہو جاتی ہے جو مقبولیت کی شان ہے اور اس کی نصیحت میں اثر پیدا ہو جاتا ہے۔پس اس پہلو سے خامیوں پر نظر رکھیں کیونکہ خامیوں کو دور کرنے کی ذمہ داری ہر عہدیدار کی ذمہ داری ہے جو اپنے دائرہ کار میں اثر دکھائے لیکن اس نظر سے جس نظر سے میں نے آپ کو تلقین کی ہے اس نظر سے خامیوں پر نگاہ