سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 194

194 رکھیں اور ان کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہیں اور یاد رکھیں کہ جتنا زیادہ آپ اپنے ماتحتوں کے تقویٰ کے معیار کو بلند کریں گے اتنے ہی عظیم الشان کامیاب منتظم ثابت ہوں گے اور اللہ کی نظر میں آپ کا اپنا مرتبہ بلند ہوگا۔اس سلسلے میں ایک اور چیز بھی ہے جو قرآن کریم ہمیں تقویٰ کے معیار کو بڑھانے کے لئے بتاتا ہے۔اس کو خصوصیت سے پیش نظر رکھنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ ط (الحجرات : 14) تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔یہ بات بالکل درست ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز شخص وہی شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔لیکن یہ بات بھی تو درست ہے کہ جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ متقی ہوگا وہ سب سے زیادہ اللہ کے رنگ ڈھنگ اختیار کرنے کی کوشش کرے گا۔پس ہر متقی کا کام ہے کہ تقوی کو عزت دے۔کیونکہ تقوی خدا کی نظر میں عزت پاتا ہے۔یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کو اپنے روزمرہ کے معاملات میں اختیار کرنے کے نتیجے میں جماعت میں تقویٰ کی قدر و قیمت بڑھے گی اور اس سلسلے میں بھی بعض خطرات ہیں جن سے بیچ کر چلنا ضروری ہے۔قادیان میں مجھے یاد ہے کہ ہم نے یہ باتیں ورثے میں پائی تھیں یعنی وہ نسلیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے ساتھ مل کر بڑھی ہیں اور اس ماحول کو انہوں نے پایا ہے۔ان کی اپنی کوئی خوبی نہیں تھی مگر صحابہ کی جو تربیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمائی تھی اس کے نتیجے میں یہ روز مرہ کی باتیں تھیں جن کا نصیحت سے تعلق نہیں تھا بلکہ ایک معاشرتی ورثہ تھا اور اس ورثے میں یہ بات شامل تھی کہ عزت کے لائق وہی ہے جو نیک ہے اور اس میں یہ کلاس کا جو فرق ہے یہ بالکل کلیۂ نظر انداز ہو جایا کرتا تھا یعنی مختلف طبقات جو دنیا کی نظر میں یعنی دنیا کے پیمانوں سے بنائے جاتے ہیں اور جن میں دنیاوی وجاہت ، عہدہ، مقام ، مرتبہ، دولت یہ سارے وہ محرکات ہیں جو کسی نہ کسی رنگ میں حصہ لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں کلاسز کا وجود ابھرتا ہے اور طبقات بنتے ہیں۔یہ بھی ایک طبعی روز مرہ جاری رہنے والا سوشل نظام ہے اور اس سے مومن بھی کلیہ بچ ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ ایک نظام ہے جو خود بخود تشکیل پاتا چلا جاتا ہے اور طبقات ابھرتے چلے جاتے ہیں لیکن جہاں تک عزتوں کا تعلق ہے وہاں عزتوں کے معاملے میں مومن ہمیشہ اللہ تعالی کے اس فرمان کو پیش نظر رکھتا ہے کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَنفُسِكُمْ (الحجرات : 14) طبقات بے شک ہوں۔ہم نے تمہیں شعوب اور قبائل میں بھی تقسیم کیا ہوا ہے اس طرح انسان بھی طبقات میں بٹ جاتا ہے لیکن جہاں تک عزتوں کا تعلق ہے، تم ہمیشہ تقویٰ کو عزت دینا کیونکہ خدا تقولی کو عزت دیتا ہے۔اس اصول کو ہم نے قادیان میں اس زمانے میں کارفرما دیکھا جس کا میں نے ذکر کیا ہے اور یہ میں بتانا چاہتا تھا کہ اس کا نصیحتوں سے تعلق نہیں تھا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اخلاقی تربیتی