سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 192
192 غور کریں گے تو اس کے نتیجے میں نئے نئے مضامین ان کو سجھائی دیں گے اور وہ مضامین ان کے کام آسان کریں گے۔خاص طور پر اس مضمون کو پیش نظر رکھیں کہ اگر کوئی امیر ہے یا صدر ہے یا جیسا کہ میں نے کہا ہے دوسرا عہد یدار ہے، اس کا کام تب اچھا ہو گا اگر وہ متقیوں کا امام بننے کی دعا بھی کرے گا اور کوشش بھی کرنے گا اور اپنے ماتحتوں کے تقویٰ کا معیار بڑھانے کی کوشش کرے گا۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ منتظمین یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اگر حسن انتظام سے آراستہ ہوں یعنی ہم میں یہ صلاحیت ہو کہ ہم اچھا انتظام چلا سکیں تو یہی کافی ہے حالانکہ ہرگز یہ کافی نہیں ہے۔حسن انتظام اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے لیکن وہ مہرے جن کو اس نے چلانا ہے وہ مادہ جس سے اس نے کام لینا ہے اس کی اپنی صفات ہیں، اپنی حصلتیں ہیں جن کے اچھے ہونے کے نتیجے میں حسن انتظام بہتر پھل لائے گا اور جن کے کمزور ہونے کے نتیجے میں حسن انتظام کو بھی اسی طرح کمزور اور ناقص پھل لگیں گے۔ہماری جماعت کا کارکن وہ مادہ ہے جس کا معیار بڑھانا ضروری ہے اگر اس مادے کو تقویٰ نصیب ہو تو اس کے اندرنئی صفات ابھریں گی ، نئی خصوصیات پیدا ہوں گی اور ایک اچھا منظم ایسے مادے سے بہت بڑے بڑے کام لے سکتا ہے۔اگر تقویٰ کا معیار گرا ہو تو یہ ایک بوسیدہ اور بریکار مادہ ہوگا جس کے نتیجے میں اچھے سے اچھا حسن انتظام بھی اس پر اچھا عمل نہیں دکھا سکتا اور اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرسکتا۔جو بوسیدہ چیز ہے اس کو کہاں تک آپ سنبھال سکتے ہیں جو شکل بھی دیں گے وہ شکل عارضی ثابت ہوگی اور رخنوں والی ہوگی۔اس لئے مٹیریل یعنی مادے کا اچھا ہونا بہت ہی ضروری ہے اور یہ دعا ہمیں یہ بات سکھاتی ہے کہ دینی انتظامات میں، دینی معاملات میں ہر امیر ، ہر صاحب عمل کو اپنے ماتحتوں کے تقویٰ کا معیار بڑھانے کی فکر کرنی چاہیئے ورنہ وہ دعا اثر نہیں دکھائے گی جس کے ساتھ اس دعا کی تائید میں نیک اعمال شامل نہ ہوں۔یہ وہ عمل صالح ہے جو دعا کو رفعت عطا کرتا ہے۔پس ہر دعا کیساتھ عمل صالح کا ایک مضمون بھی چسپاں ہے، اس کے ساتھ وابستہ ہے، اس کو لازم ہے اور اسی عمل صالح کو اختیار کرنا چاہئے جس کے لئے دعا کی جاری ہے۔پس تمام امراء اور تمام عہدیداران کی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ان کی اپنی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ جہاں وہ اپنے لئے متقیوں کا امام ہونے کی دعا کریں وہاں اپنے ماتحتوں کا تقویٰ کا معیار بڑھانے کی کوشش کریں اور اس پہلو سے مجھے یہ خلا محسوس ہوتا ہے کہ جماعت کے ہمارے بہت سے منتظمین بھی اس کو براہ راست اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔ہم ہیں انتظام کے سر براہ اور مربیان یا بعض بزرگ لوگ تقویٰ کے سربراہ ہیں اور گویا یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں حالانکہ جماعت احمدیہ میں جو ایک روحانی جماعت ہے حسن انتظام کو حسن تقویٰ سے الگ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔مومن کی زندگی کے وجود کا تقویٰ ایک دائمی حصہ ہے۔اس لئے یہ باطل تصور دل سے بالکل نکال