سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 90

90 کہ میں نے تیری راہ میں نئے کھیت اگائے ہیں اور تیری راہ میں نئے باغ لگائے ہیں۔عہد یداران دعوت الی اللہ کے باغ اور کھیت لگائیں تو دعوت الی اللہ کے باغ اور کھیت لگانے کا کام یہ عہد یداران کا کام ہے اور یہ محض نصیحت سے نہیں ہوتا ، یہ محض یاددہانی سے بھی نہیں ہوتا ، یہ ساتھ لگ کر کام سکھانے سے ہوتا ہے۔بعض عادتیں راسخ کرنے سے ہوتا ہے ، بعض لوگوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگانا اور پھر ان کے ساتھ پیار کا تعلق قائم کر کے ان کے دلوں میں کام کی محبت پیدا کرنا، یہ ایک فن ہے اور اس فن کے متعلق قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے ایک نہایت ہی عمدہ اصولی روشنی ڈالی جس سے استفادہ کرنا چاہئے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د خدا تعالیٰ نے قوموں کو زندہ کرنے کا کام کیا تھا۔وہ قوموں کے نبی تھے بڑے عظیم الشان مقام کے نبی تھے اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے ذریعے میں قوموں کو نئی زندگی عطا کروں گا۔بڑے عاجز مزاج تھے۔حیران ہوئے کہ اتنا مشکل کام میں کیسے کرسکوں گا۔عرض کیا رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْي الموتى (البقره: 221) زندگی تو تو نے ہی بخشنی ہے میں جانتا ہوں میرے ذریعے ہو یا جو بھی تیرا منشا ہے لیکن تو بخشنے والا ہے۔میں جانتا تو ہوں کہ تو ان قوموں کو زندہ کر دے گا مگر کیسے کرے گا مجھے بتا تو سہی میرے دل کو تسلی دے۔تو خدا تعالیٰ نے وہ راز ان کو سمجھایا کہ زندہ میں کروں گا لیکن تیرے ذریعے کروں گا۔فرمایا چار پرندے لے ان کو اپنے سے مانوس کرلے۔اپنے لئے ان کے دل میں محبت پیدا کر اور ان کے لئے اپنے دل میں محبت پیدا کر۔جب وہ مانوس ہو جائیں تو ان کو چار مختلف سمت کی پہاڑیوں پر چھوڑ دے پھر ان کو آواز دے، دیکھ کس سرعت کے ساتھ وہ تیری آواز کے اوپر اڑتے ہوئے چلے آتے ہیں۔یہ نئی زندگی بخشنے کا جو نظام ہے خدا تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو سمجھایا اور ہمیشہ کے لئے ہمارے لئے نمونے کے طور پر پیش فرما دیا۔عہدیداران، بعض افراد جماعت سے احیائے موتی کا کام لیں پس ہر مربی ، ہر مبلغ ، ہرا میر اور ہر صدر اور ہر متعلقہ عہد یدار کو خواہ وہ سیکرٹری اصلاح وارشاد ہو یا جس حیثیت سے بھی اس کام میں اس کا تعلق ہو اس کو چاہئے کے جماعت کے بعض افراد کو پکڑے اور فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ (البقرہ: 261 ) کے طابع ان کو اپنے ساتھ وابستہ کرے۔اپنے ساتھ ملا کر، پیار کا تعلق قائم کر کے ان کی تربیت کرے تھوڑے تھوڑے کام ان کے سپر د کرے پھر ان کو دنیا میں پھیلا دے اور ان کے ذریعے احیائے موتی کا کام لے۔اس طرح اپنی توفیق کے مطابق اس کی توجہ کو مرکز بدلتا رہے گا۔آج چار یا آٹھ یا دس نو جوان پکڑے ان کی تربیت کی ان کو کام پر لگا دیا پھر دوبارہ کل آٹھ یا دس یا ہیں نوجوان جتنی بھی