سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 89
89 ڈالی ہے۔اس کے لئے سنجیدگی سے تیاری کرنی ہے اور اس کے سوا اور کوئی حل بھی نہیں ہے کہ ہم میں سے ہر شخص تبلیغ کرے اور مؤثر تبلیغ کرے اور چین سے نہ بیٹھے جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کی تبلیغ کو پھل نہ لگنے لگ جائیں۔عہدیداران دعوت الی اللہ سے متعلق امور نہ بھولیں ان کے بھولنے سے جماعت بھی بھول جائے گی تو جہاں تک عہدیداران کا تعلق ہے ان کو بھولنا نہیں چاہئے ان کی خواہ میں جواب طلبی کروں یا نہ کروں اگر وہ اس بات کو بھول جائیں گے تو جماعت بھی بھول جائے گی۔عہد یداروں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خوب یا درکھیں اور بار بار پلٹ پلٹ کر جماعت کے حالات کو دیکھتے رہیں کہ کس حد تک یہ کام آگے جاری ہے۔عموما یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ عہد یداران چند آدمیوں کے نیک کام کو اپنی رپورٹ میں سمیٹتے ہیں اور جس طرح آسٹریلیا کے Obroganees تھے جو خود محنت کر کے چیزا گانے کی بجائے جو قدرت پھل دیتی ہے اس کو سمیٹنے والے لوگ۔چنانچہ دنیا میں دو قسم کے رزق حاصل کرنے والے ہیں ایک وہ جو اگاتے ہیں محنت کر کے اور پھر پھل کھاتے ہیں جیسے آج کل متمدن دنیا اکثر یہی کر رہی ہے۔فصلیں کاشت کرتی ہے، پھل والے درخت لگاتی ہے اور پھر جتنا محنت کرتی ہے اتنا اس کا پھل کھاتی ہے لیکن کچھ قو میں جیسا کہ آسٹریلیا کے Obroganees تھے یا ہیں اور کچھ اور ممالک بھی ایسے ہیں جن کو Gatherers کہا جاتا ہے وہ صرف سمیٹنے کا کام کرتے ہیں۔تو ا کثر منتظمین کام سمیٹ رہے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے جہاں دو، چار، دس داعی الی اللہ دے دیئے ان کی رپورٹوں کو سمیٹ کر ان کی رپورٹ بڑی مزین ہو جاتی ہے اور خوبصورت ہو جاتی ہے اور یہ تاثر دیتے ہیں مرکز کو کہ گویا ساری جماعت بڑا اچھا کام کر رہی ہے اور دیکھیں اتنا اچھا پھل لگ گیا حالانکہ بعض اوقات جو داعی الی اللہ ہیں ان کو بنانے میں ان کا کوئی دخل نہیں ہوتا ان کو سجانے میں ان کا کوئی دخل نہیں ہوتا ان کو پہلے سے زیادہ بہتر کرنے میں ان کا کوئی دخل نہیں ہوتا لیکن بعض جگہ ہوتا ہے۔بعض جگہ جماعت کا سارا نظام ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہوتا ہے، سر پرستی کر رہا ہوتا ہے، ان کے ساتھ مل کر کام کو آگے بڑھا رہا ہوتا ہے۔تو وہ صاف نظر آ جاتا ہے۔رپورٹ تیار کرنے والوں کو ہدایت تو جہاں تک رپورٹیں سمیٹنے کا تعلق ہے رپورٹیں تو کچھ نہ کچھ سج جاتی ہیں لیکن سمیٹنے والے کی ذمہ داری ادا نہیں ہو جاتی۔اس کا کام یہ ہے کہ خود اپنی زمینیں بنائے ،اس کا کام یہ ہے کہ نئی کاشت کی کھیتیاں پیدا کرے، اس کا کام یہ ہے کہ نئے درخت لگائے اور پھر خدا تعالیٰ کے سامنے صاف دل کے ساتھ پیش ہو کہ اے خدا! اس سال میری محنت کا یہ پھل ہے، میں نے کوشش کی تو نے اپنے فضل کے ساتھ مجھے تو فیق عطا فرمائی